کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 315
میں طلاق واقع نہیں ہوتی، البتہ یہ ضروری ہے کہ طلاق دینے والے کی عقل نشہ کی وجہ سے معطل ہوچکی ہو اوروہ ہذیان بکنے لگا ہو، نیزاسے اپنے نفع ونقصان کابھی پتہ نہ ہوچونکہ معاملات میں تصرف کرنے کے لئے عقل بنیادی حیثیت بلکہ اولین شرط ہے جوبحالت نشہ زائل ہوچکی ہے، اس لئے ایسے حالات میں طلاق واقع نہیں ہو گی، جیسا کہ عقل کے فقدان کی وجہ سے دیوانے اوربچے کی دی ہوئی طلاق واقع نہیں ہوتی ۔چنانچہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کافرمان ہے کہ ’’مجنون اورنشہ والے کی طلاق نہیں ہے‘‘۔ [صحیح بخاری، کتاب الطلاق تعلیقًا] نیزحضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کافرمان ہے کہ ’’نشہ والے اوربے اختیار انسان کی طلاق جائز نہیں ہے ۔‘‘ [بخاری حوالۂ مذکورہ ] صورت مسئولہ میں چونکہ طلاق دہندہ نشہ کی حالت میں اپنے منہ سے نکلنے والی باتوں سے بالکل بے خبرتھا ایسے حالات میں دی ہوئی طلاق کاکوئی اعتبار نہیں ،عقل بھی اس بات کاتقاضا کرتی ہے ۔ [واللہ اعلم ] سوال: میں نے ایک عورت سے شادی کی ،نکاح کے چھ ماہ بعد پتہ چلا کہ وہ پہلے کسی کی منکوحہ ہے اوراس سے طلاق نہیں لی گئی ،ایسے حالات میں میرے لئے کیا حکم ہے؟ جواب: قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ’’نیز وہ تمام عورتیں بھی حرام ہیں جن کے شوہرموجودہوں مگر وہ کنیزیں جو تمہارے قبضہ میں آجائیں ۔‘‘ [۴/النسآء:۲۴] اس آیت کے پیش نظر وہ عورت جس کاخاوند پہلے سے موجودہواس سے نکاح جائز نہیں ہے، ہاں، اگر وہ اسے طلاق دے دے یافوت ہوجائے توعدت گزارنے کے بعد اس سے نکاح کرناجائز ہے ۔صورت مسئولہ میںجس عورت سے نکاح کیاگیا ہے وہ پہلے سے کسی دوسرے کی منکوحہ ہے۔ اس لئے شرعاًنکاح صحیح نہیں ہے، اس لئے ضروری ہے کہ فوراًاس سے علیحدگی اختیار کی جائے چونکہ کسی شبہ کی بنا پر اس سے وظیفہ زوجیت اداکرچکا ہے، اس لئے حق مہر سے اسے کچھ نہیں ملے گاوہ عورت کاہے اس سے نکاح صرف اس صورت میں ہوسکتا ہے کہ پہلا خاونداسے طلاق دے، پھرعدت گزارنے کے بعد کسی دوسرے سے نکاح ہوسکتا ہے ۔اس کے بغیر اسے نکاح میں رکھناناجائز اورحرام ہے ۔ [واللہ اعلم ] سوال: میرے خاوندنے عرصہ دوسال سے طلاق دے کر اپنی زوجیت سے فارغ کردیا ہے ،اب میرا اللہ کے علاوہ کوئی سہارانہیں ہے۔ میں زندگی گزارنے کے لئے کسی سہارے کی تلاش میں ہوں، کیاشریعت کی روسے مجھے نکاح ثانی کرنے کی اجازت ہے؟ از راہ کرم اس سلسلہ میں میری راہنمائی فرمائیں۔ جواب: جس عورت کوطلاق دی جاتی ہے دوران عدت خاوند کواس سے رجوع کرنے کاپوراپوراحق ہوتا ہے، عدت گزرنے کے بعد عورت آزادہے، شریعت نے اسے نکاح ثانی کرنے کی اجازت دی ہے ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اورجب تم عورتوں کوطلاق دیدو اوران کی عدت پوری ہوجائے توانہیں دوسرے شوہروں کے ساتھ نکاح کرنے سے مت روکوجبکہ وہ آپس میں معروف طریقہ کے مطابق رضامندہوں ۔‘‘ [۲/البقرہ :۲۳۲] اس کامطلب یہ ہے کہ جوشخص اپنی بیوی کوطلاق دے چکا ہے اورعورت عدت گزارنے کے بعد کہیں دوسری جگہ نکاح کرناچاہتی ہے