کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 314
نکاح کرے ۔ [۲/البقرہ :۲۳۰] ان آیات کے پیش نظر صورت مسئولہ میں سائل نے وقفہ وقفہ کے ساتھ رجوع کے بعد اپنے اختیارات کواستعمال کرلیا ہے۔اگرچہ پہلی طلاق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقہ کے خلاف دی ہے، تاہم گناہ اورمعصیت ہونے کے باوجو د تیر اپنے ترکش سے نکل چکاہے اورنشانے پرلگ گیا ہے، اسی طرح باقی دوطلاق بھی دے چکا ہے ہمارے نزدیک اب رجوع کی کوئی صورت نہیں ہے۔ قرآن کریم کے مطابق صرف ایک صورت باقی ہے کہ وہ عورت آبادی کی نیت سے آگے نکاح کرے کسی قسم کی حیلہ گری پیش نظرنہ ہو ،پھرازدواجی زندگی بسر کرنے کے بعدوہ اسے طلاق دیدے یافوت ہوجائے توعدت گزارنے کے بعد پہلے خاوند سے نکاح ہوسکتا ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’ہاں، اگروہ دوسرااسے طلاق دیدے توپھر پہلا خاوند اوریہ عورت دونوں اگرظن غالب رکھتے ہوں کہ وہ حدوداللہ کی پابندی کرسکیں گے تووہ آپس میں رجوع کرسکتے ہیں اوران پرکچھ گناہ نہیں ہوگا۔‘‘ [۲/البقرہ :۲۳۰] اگرچہ ہمارے بعض اہل علم کاموقف ہے کہ پہلی طلاق طریقہ نبوی کے مطابق نہیں دی گئی اس بنا پر وہ واقع نہیں ہوئی، لہٰذاابھی رجوع کی گنجائش ہے لیکن ہمیں اس موقف سے اتفاق نہیں کیونکہ جمہورامت کے خلاف ہے، نیز حزم واحتیاط کابھی تقاضا ہے کہ ایسے مشتبہ امورسے اجتناب کیاجائے اورشکوک وشبہات والے معاملات کونظرانداز کردیاجائے ۔ [واللہ اعلم بالصواب] سوال: میں نے اپنے والدین کے کہنے پر اپنی مرضی کے خلاف پہلے سے تیار کردہ طلاق نامہ پردستخط کئے ہیں جبکہ میں نے زبان سے طلاق وغیر ہ کے الفاظ نہیں کہے اورنہ ہی میراطلاق دینے کاارادہ تھا ،اب ہم صلح کرناچاہتے ہیں میری راہنمائی فرمائیں کہ اب ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ جواب: بشرط صحت سوال میں واضح ہو کہ صورت مسئولہ میں جبرواکراہ کی کوئی صورت نہیں ہے کہ اس میں دی ہوئی طلاق کو غیرمؤثر قراردیاجائے ،طلاق دیتے وقت زبان سے اقرارضروری نہیں بلکہ طلاق دینایالکھے ہوئے طلاق نامہ پردستخط کرنابھی اقرار ہی کی ایک صورت ہے۔ اس بنا پر مذکورہ طلاق رجعی ہے بشرطیکہ پہلی یادوسری طلاق ہو ،طلاق رجعی کے بعد عدت کے اندر اندر رجوع ہوسکتا ہے ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ’’اگران کاآپس میں صلح واتفاق کاارادہ ہوتوخاوند حضرات انہیں دوران عدت واپس لینے کازیادہ حق رکھتے ہیں ۔‘‘ [۲/البقرہ :۲۲۸] عدت گزرجانے کے بعد بھی تجدیدنکاح سے تعلقات کواستوار کیاجاسکتا ہے۔ جیسا کہ سورۂ بقرہ کی آیت نمبر: ۲۳۲ میں اس کی صراحت ہے لیکن اس صورت میں عورت کی رضامندی ،سرپرست کی اجازت سے نئے حق مہر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں تجدید نکاح ہوگا ۔ [واللہ اعلم ] سوال: میرے ایک دوست نے مجھے نشہ آور شربت پلادیا جس کے نتیجہ میں مجھے کوئی ہوش نہ رہا نشے میں آکر میں اپنے سسرکوگالی گلوچ کرتا رہا اوراپنی بیوی کوطلاق، طلاق کہتا رہا ،جب مجھے ہوش آیاتومیرے گھروالوں نے بتایا کہ تونے اپنے سسر کو گالیاں اوراپنی بیوی کوطلاق دیدی ہے، کیاایسے حالات میں طلاق ہوجاتی ہے؟ جواب: بحالت نشہ دی جانے والی طلاق کے متعلق متقدمین ائمۂ کرام کااختلاف ہے مگر راحج موقف یہی ہے کہ ایسی حالت