کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 312
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہنسی مذاق سے یہ معاملہ سرانجام دینے کوبھی سنجیدہ قراردیا ہے اورقانونی اعتبار سے اسے نافذالعمل کہا ہے ۔ [ابوداؤد ، الطلاق:۲۱۹۴] پھروہ معاملات جوحلال وحرام سے متعلق ہیں ان میں بہت حزم واحتیاط سے کام لیناچاہیے۔اس کااندازہ درج ذیل واقعہ سے ہوتا ہے ۔ فتح مکہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمعہ کی لونڈی کاناجائز بیٹا قانونی اعتبار سے زمعہ کابیٹاقرار دیتے ہوئے اس کے دوسرے بیٹوں کے حوالے کردیا لیکن چونکہ اس کی شکل وصورت زانی مرد سے ملتی جلتی تھی، اس لئے آپ نے زمعہ کی بیٹی ام المؤمنین حضرت سودہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ ’’تم نے اپنے اس ’’قانونی بھائی‘‘ سے پردہ کرنا ہے۔‘‘ چنانچہ حضرت سودہ رضی اللہ عنہا نے آخری دم تک اسے نہیں دیکھا۔ [صحیح بخاری ،البیوع :۲۰۵۳] اس مختصر تمہید کے بعد ہم صورت مسئولہ کا جائزہ لیتے ہیں۔ شریعت کی نظر میں شوہرکی طرف سے مخصوص الفاظ کے ذریعے نکاح کی گرہ کھول دینے یااس کے کمزورکردینے کانام طلا ق ہے، پھر طلاق دیتے وقت اگررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقہ پر عمل کیاجائے تواسے طلاق سنت کہاجاتا ہے اور اس طریقہ کے خلاف طلا ق دینے کوطلاق بدعت کہاجاتا ہے ۔امام بخاری رحمہ اللہ نے طلاق سنت کی تعریف بایں الفاظ کی ہے کہ دوگواہوں کے سامنے خاوند اپنی بیوی کوبحالت طہر ایک طلاق دے بشرطیکہ اس طہر میں بیوی سے مباشرت نہ کی ہو۔ [صحیح بخاری، الطلاق، باب نمبر:۱] واضح رہے کہ طلاق سنت کامطلب یہ نہیں ہے کہ اس طرح طلاق دینے میں کچھ ثواب ملے گاکیونکہ طلاق فی نفسہ عبادت نہیں کہ اسے اختیار کرنے میں ثواب کی امید رکھی جائے، پھر طلاق سنت کے مقابلہ میں طلاق بدعت کی درج ذیل صورتیں ہیں: 1۔ طہرکے بجائے حالت حیض یاحالت نفاس میں طلاق دی جائے۔ 2۔ ایسے طہر میں طلاق دی جائے جس میں خاوند اپنی بیوی سے مباشرت کرچکا ہو۔ 3۔ ایک طلاق کے بجائے بیک وقت تین طلا ق دیدے۔ 4۔ دوگواہوں کے بغیر طلاق دے یہ بھی یادرہے کہ حالت حمل میں طلاق دینابھی طلاق سنت ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے فرمایا تھا: ’’تم اپنی بیوی کوحالت طہر یاحالت حمل میں طلاق دو۔‘‘ [صحیح مسلم ، الطلاق:۱۴۷۱] طلا ق بدعت کی مندرجہ بالاصورتوں میں طلاق کے نافذ ہونے کے متعلق اختلاف ہے۔ جمہور ائمۂ اربعہ رحمہم اللہ ان حالات میں دی ہوئی طلاق کے واقع ہونے کاموقف رکھتے ہیں اگرچہ خلاف سنت طریقہ اختیارکرنے سے گناہ اورمعصیت ہے ۔اس کے برعکس امام ابن تیمیہ ،امام ابن قیم ،امام ابن حزم ،علامہ شوکانی اورنواب صدیق حسن خاں رحمہم اللہ کاموقف ہے کہ ایسے حالات میں دی ہوئی طلاق نافذ نہیں ہوگی کیونکہ یہ طلاق بدعت ہے اورہربدعت گمراہی ہوتی ہے توگمراہی سے کسی قسم کاحکم ثابت نہیں ہوتا ،نیز حدیث میں ہے کہ’’ جس نے کوئی ایساکام کیاجس پرہماراحکم نہیں وہ مردودہے۔‘‘ [صحیح بخاری:۲۶۹۷] چونکہ طلاق بدعت کاحکم اللہ تعالیٰ اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں دیا ،جب یہ مردودہے تواسے شمار کیونکر کیاجاسکتا ہے لیکن