کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 309
وہ اپنی بیوی کواس کانہ بھی بتائے، اگرکوئی آدمی یہ کہہ دے کہ میں نے اپنی بیوی کوطلاق دے دی تواس سے اس کی بیوی کوطلاق ہو جائے گی، خواہ بیوی کواس کاعلم ہو یا نہ ہو ۔اس بنا پر فرض کریں اگر عورت کوطلاق کاعلم تین حیض گزرجانے کے بعد ہوتواس کی عدت پوری ہوچکی ہوگی حالانکہ ا سے اس کاعلم ہی نہیں تھا اس طرح اگرکوئی آدمی فوت ہوجائے اور اس کی بیوی کوخاوند کی وفات کاعلم عدت گزرنے کے بعد ہوتواس پرکوئی عدت نہیں، اس لئے عدت کی مدت توپہلے گزر چکی ہے۔ [فتاویٰ ،نکاح وطلاق :۴۲۸] صورت مسئولہ میں کسی عورت کایہ مشورہ دیناغلط ہے کہ اس طرح طلاق نہیں ہوتی کیونکہ تم نے اسے پڑھا نہ سنا اور نہ ہی اسے ہاتھ لگایا ۔ایسے مشوروں کو’’دین خواتین ‘‘ہی قرار دیا جاسکتا ہے۔ ان کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہے ،پھرخاوند نے اس کااقرار بھی کرلیا ہے اوراس پر دوسال کاعرصہ بھی گزر چکا ہے اب مرد ،عورت اوربچوں کی پریشانی دورکرنے کایہی ایک طریقہ ہے کہ خاوند تجدید نکاح کے ساتھ رجوع کرے۔کتاب و سنت کی روشنی میں ایک مجلس کی تین طلاق ایک ہی ہوتی ہیں، اس لئے اگریہ پہلا یا دوسراواقعہ ہے توخاوند کورجوع کا حق ہے لیکن عدت گزرچکی ہے ،اب انہیں نئے حق مہر کے ساتھ نکاح کرناہوگا ۔ [واللہ اعلم ] سوال: شرعی طورپر وٹہ سٹہ کی شادی کے متعلق کیاحکم ہے ؟ جواب: وٹہ سٹہ کی دوصورتیں ہیں کہ کسی شخص نے اپنے بھائی کواپنی بیٹی کارشتہ دے دیا ،اس کے بعد اس نے اپنی بیٹی کا رشتہ اپنے بھائی کے بیٹے سے کردیا،نکاح کرتے وقت کوئی شرط وغیرہ نہیں رکھی گئی ،اس کے جائز ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہے ،دوسری قسم وٹہ سٹہ ارادی ہے، یعنی نکاح کرتے وقت یہ شرط کرلی جائے تم اپنی بیٹی کارشتہ میرے بیٹے سے کروگے ،اسے شریعت کی اصطلاح میں ’’شغار‘‘ کہتے ہیں۔ شرعی طورپرایسا کرنا ناجائز اورحرام ہے۔ حدیث میں بیان ہے کہ شغار کااسلام میں کوئی وجودنہیں ہے۔ [صحیح مسلم ،النکاح : ۳۴۶۸] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح شغار سے منع کیا ہے [صحیح بخاری، النکاح:۵۱۱۲] حدیث میں شغار کی تعریف بایں الفاظ کی گئی ہے: ’’کوئی آدمی اپنی بیٹی کانکاح اس شرط پر کرے کہ دوسرابھی اپنی بیٹی کانکاح اس سے کرے گا اوردرمیان میں کوئی حق مہر نہ ہو۔‘‘ [صحیح بخاری، الحیل :۶۹۶۰] بعض علما کاخیا ل ہے کہ اگردرمیان میں مہر رکھ دیا جائے تونکاح شغار کے دائرہ سے نکل جاتا ہے، حالانکہ اس تعریف میں حق مہرکاذکراتفاقی ہے احترازی نہیں ہے، جیسا کہ ایک اور حدیث میں ہے کہ عباس بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بیٹی کانکاح عبدالرحمن بن حکم سے کردیا اور عبدالرحمن نے اپنی بیٹی عباس بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے عقد میں دے دی ،انہوں نے درمیان میں مہر بھی رکھا،حضرت امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ کوجب اس نکاح کاعلم ہواتو انہوں نے اپنے گورنر مروان کومدینے میں خط بھیجا کہ ان کے درمیان فوراًتفریق کرادی جائے کیونکہ یہ وہی شغار ہے جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا تھا۔ [ابوداؤد ،النکاح :۲۰۷۵] جب معاشرتی طورپر نکاح شغار کودیکھا جاتا ہے کہ مہر ہونے یا نہ ہونے سے اس کی قباحت پرکوئی اثر نہیں پڑتا ،کیونکہ جب خرابی پیدا ہوتی ہے تودونوں گھراجڑجاتے ہیں، حالانکہ قصور ایک کاہوتا ہے اوردوسرا بلاوجہ زیادتی کے لئے تختہ مشق بن جاتاہے، لہٰذا اس قسم کے نکاح سے اجتناب کرنا چاہیے، اگرچہ احناف کاموقف ہے کہ اگر اس قسم کانکاح ہوجائے تودرمیان میں حق مہر رکھنے کے