کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 305
سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ’’ طلاق اورآزادی اغلاق میں نہیں ہوتی ۔‘‘ [ابوداؤد، الطلاق:۲۱۹۳] محدثین نے اغلاق کے دومفہوم بیان کئے ہیں: 1۔ زبردستی لی جانے والی طلاق واقع نہیں ہوتی۔ 2۔ شدید غصے اورسخت نشہ میں جب انسان کی عقل پرپردہ پڑجائے توایسی صورت میں دی ہوئی طلاق واقع نہیں ہوتی۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حالت نشہ میں موجودانسان اورمجبورشخص کی طلاق جائز نہیں ہے ایسی طلاق واقع نہیں ہوتی۔ [صحیح بخاری، الطلاق:۱۰] امام بخاری رحمہ اللہ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا: ’’پاگل اوربحالت نشہ کی طلاق نہیں ہے۔‘‘ حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ کے پاس ایک ایسا آدمی لایاگیا جس نے نشہ کی حالت میں اپنی بیوی کوطلاق دی تھی ۔انہوں نے فیصلہ کیا کہ اسے شراب کی حدلگائی جائے اوراس کی بیوی کوالگ کردیاجائے ،ان سے حضرت ابان بن عثمان نے بیان کیا ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے نزدیک جنون اور نشہ کی حالت میں دی ہوئی طلاق واقع نہیں ہوتی ۔اس کے بعد آپ نے صرف حدلگائی لیکن اس کی بیوی کواس سے الگ نہ کیاکیونکہ اس حالت میں دی ہوئی طلاق واقع نہیں ہوتی ہے ۔ [بیہقی ،ص: ۳۵۹،ج ۷] ہمارے نزدیک نشہ کی حالت میں عقل ماؤف ہونے کے اعتبار سے دیوانگی کی ہی ایک قسم ہے۔ جنون کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تین آدمی مرفوع القلم ہیں۔ ایک سو نے والا حتی کہ بیدارہوجائے، دوسرابچہ حتی کہ وہ بالغ ہوجائے اور تیسرا پاگل حتیٰ کہ عقل مندہوجائے۔‘‘ [نسائی، الطلاق: ۳۴۳۲] اس بنا پر نشہ کی حالت میں دی ہوئی طلاق واقع نہیں ہوتی لیکن اس بات کابغور جائز ہ لیناہوگا کہ نشے کی حالت میں جب طلاق دی گئی تھی تواس وقت نشہ ابتدائی مرحلہ میں تھا یا پورے عروج پرتھا۔اگرابتدائی مرحلہ ہے کہ نشہ کرنے والاکاعقل و شعور پوری طرح ختم نہیں ہوابلکہ اسے طلاق دینے کاعلم تھا توایسی حالت میں طلاق واقع ہوجائے گی اوراگر نشہ کرنے والا ایسی حالت میں ہے کہ اسے عقل وشعور نہیں بلکہ اسے طلاق دینے کا قطعاً علم نہیں تو ایسی حالت میں طلاق واقع نہیں ہوگی کیونکہ طلاق دہندہ کی عقل ماؤف ہوچکی ہے جبکہ طلاق کے مؤثرہونے کے لئے بقائم ہوش و حواس ہوناضروری ہے ۔ [واللہ اعلم] سوال: میں اپنے چھوٹے بھائی کے نکاح کے لئے تقریباً7سال قبل اپنے خالوکے پاس گیا انہوں نے کہا تم بھی اپنی ہمشیرہ کانکاح میرے بیٹے سے کردو،میں نے کہاکہ میری ہمشیرہ تودینی درس گاہ میں زیرتعلیم ہے۔ فراغت کے بعد سوچ وبچار کروں گا، اسی دوران میرے بھائی کارشتہ کر دیا گیا مجھے بعد میں علم ہوا کہ اس طرح کامشروط نکاح وٹہ سٹہ کے زمرے میں آتا ہے، اس لئے میں نے اپنی ہمشیرہ کارشتہ دینے سے یکسر انکار کردیا لیکن برادری والے مجھے یہ کام کرنے پر مجبورکرتے ہیں۔واضح رہے کہ میرے والد نے اپنی زندگی میں میری بہن کی منگنی میرے چچازاد سے کردی تھی۔میرے والد کے فوت ہونے کے بعدبرادری کی طرف سے دباؤ ڈالاجارہاہے کہ میں اپنی ہمشیرہ کی منگنی اپنے خالوزادبھائی سے کروں ۔قرآن وسنت کی روشنی میں ہماری راہنمائی کریں کہ واقعی اس قسم کانکاح وٹہ سٹہ کے زمرے میں آتا ہے ؟