کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 302
اور امام احمد رحمہما اللہ کاموقف ہے کہ جب مستقبل میں وقت آئے گا جس پرطلاق کووابستہ کیا ہے۔ اس وقت مؤثر ہوگی اس سے پہلے پہلے غیر مؤثر ہے، البتہ ابن حزم رحمہ اللہ نے اس قسم کی رائے کااظہار کیا ہے کہ اس طرح کی طلاق سرے سے واقع نہیں ہوتی اب نہ آیندہ۔ (محلیٰ ابن حزم) ہمارے نزدیک امام ابوحنیفہ اورامام ابن حزم رحمہما اللہ کاموقف افراط وتفریط پرمبنی ہے ۔امام شافعی اورامام احمد بن حنبل رحمہما اللہ کی رائے میں وزن معلوم ہوتا ہے، لہٰذا دونوں یکم جون ۲۰۰۶ء تک میاں بیوی کی حیثیت سے اکٹھے رہ سکتے ہیں۔ماہ جون ۲۰۰۶ء کا دن ان کے لئے ہمیشہ جدائی کادن ہوگا۔اس صورت میں رجو ع کریں توکس چیز سے رجوع کیاجائے، کیونکہ رجوع کا موقع ہاتھ سے نکل چکا ہے ۔اس قسم کی بے احتیاطی ،بے اعتدالی اورنادانی کانتیجہ ندامت اورشرمساری ہی ہواکرتا ہے ۔ [واللہ اعلم بالصواب] سوال: ایک شخص اپنی بیوی کوایسے آشیانہ میں چھوڑکر سفر آخرت پرروانہ ہواجہاں عزت وآبرواورجانی تحفظ نہیں ہے۔ اس کاذاتی مکان یاترکہ بھی نہیں ،کیا اس کی بیوی اس پر وحشت ماحول اور اجنبی گردوپیش میں عدت کے ایام گزارے یا اپنے والدین کے ہاں عدت گزارنے کی اجازت ہے؟ قرآن وسنت کی روشنی میں اس کی وضاحت فرمائیں ۔ جواب: جس عورت کا خاوند فوت ہوجائے ،حدیث کی روشنی میں اسے درج ذیل امور کی پابندی کرناضروری ہے: ٭ جس گھر میں خاوند کی وفات کے وقت رہائش پذیر ہو وہیں چارماہ دس دن گزارنا یاحمل کی صورت میں وضع حمل تک وہاں رہناضروری ہے۔ اس گھرسے بلاوجہ باہر رہناجائز نہیں ہے۔ ٭ اسے خوبصورت لباس پہننے کی بھی اجازت نہیں ہے بلکہ سادہ لباس زیب تن کرکے یہ دن گزارے جائیں ،کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کاحکم دیا ہے۔ ٭ دوران عدت سونے چاندی اورہیرے جواہرات وغیرہ کے زیورات بھی نہیں پہنناچاہیے، یعنی ہار، کنگن اورانگوٹھی وغیرہ انہیں زیورات میں شامل کیاجاتا ہے لہٰذا ان کے استعمال سے اجتناب کرے ۔ ٭ خوشبواوردیگرعطریات کے استعمال سے بھی پرہیز کرے لیکن حیض سے فراغت کے بعدبودورکرنے کے لئے خوشبو وغیرہ استعمال کرنے میں چنداں حرج نہیں ہے ۔ ٭ سرمہ اورپاؤڈروغیرہ جوکہ چہرے کی زیبائش کے لئے استعمال کیا جاتا ہے، انہیں بھی استعمال نہ کیاجائے، البتہ غسل کرتے وقت صابن استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ان کے علاوہ کچھ پابندیاں خودساختہ ہیں، مثلاً: کسی سے بات چیت نہ کرنا، ہفتہ میں صرف ایک بار غسل کرنا،گھر میں ننگے پاؤں چلنا یہ سب خرافات ہیں ۔اگر حالات سازگار ہوں تو بیوہ کااس مکان میں عدت کے ایام پوراکرناضروری ہے، خواہ وہ اس کی ملکیت نہ ہو، جیسا کہ حضرت فریعہ رضی اللہ عنہا کابیان ہے کہ اس کاخاوند اپنے بھاگے ہوئے نئے غلاموں کی تلاش میں نکلاتھا ۔انہوں نے اسے قتل کردیا تومیں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے میکے جانے کے متعلق دریافت کیا کیونکہ میرے خاوند نے اپناذاتی مکان یانفقہ نہیں چھوڑاتھا ۔آپ نے اجازت دیدی ۔جب واپس جانے لگی توآپ نے مجھے آواز دی اورفرمایا: ’’تم اپنے پہلے مکان میں ہی رہو حتی کہ تمہاری عدت پوری ہو جائے۔‘‘ چنانچہ میں نے عدت کے ایام اسی سابقہ مکان میں ہی