کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 301
ظاہرکرتی ہے ،چونکہ برصغیرکامعاشرہ ابھی تک اس قدر ترقی یافتہ یاتربیت یافتہ نہیں کہ اس میں نکاح کاپیغام دینے والے کے لئے اپنی بیٹی یابہن کے دکھانے کااہتمام کیاجائے۔ اس بنا پر اس کے جواز کی آڑ میں دیکھنے دکھانے پراصرار کرناصحیح نہیں ہے۔ والدین بھی اسے اپنی عزت کامسئلہ نہ بنائیں اورنہ ہی برخورداران اسے بطورمشغلہ اپنائیں۔انٹرنیٹ کے ذریعے براہ راست لڑکے کالڑکی سے رابطہ کرنااورپیغام نکاح دینابھی صحیح نہیں ہے ۔ہمارے جن گھروں میں انٹرنیٹ یاکیبل کی سہولت ہے انہیں اس پہلو کاخاص خیال رکھناہوگا۔عام طورپر ایساہوتا ہے کہ بچے اس سہولت سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے والدین کواس وقت خبر دیتے ہیں جب عدالتی نکاح کے ذریعے وہ خود کورشتہ ازدواج میں منسلک کرلیتے ہیں۔ ہمارے نزدیک منگنی کے لئے تصاویر کاتبادلہ بھی جائز نہیں ہے اس کی درج ذیل وجوہات ہیں: 1۔ تصویر بنانے کے لئے یہ کوئی حقیقی ضرورت نہیں ہے، پھراسے دیکھنے میں دوسرے بھی شریک ہوسکتے ہیں ۔ 2۔ تصویر سے حسن وجمال رنگ اورکردار کاپتہ ہی نہیں چلتا ،کتنی ہی ایسی تصاویر ہیں جوحقیقت کے برعکس ہوتی ہیں، تصویر دیکھنے کے بعد جب اصل کودیکھاگیا تواس میں زمین وآسمان کافرق تھا ۔ 3۔ یہ بھی ممکن ہے کہ منگنی پایہ تکمیل تک نہ پہنچے اوروہ تصویر منگیترکے پاس رہے جسے بعد میں بلیک میل کرتا رہے۔ ہمارے نزدیک بہتر ہے کہ منگنی کے جملہ معاملات اپنے والدین کے ذریعے پایہ تکمیل تک پہنچائے جائیں ،اسی میں خیروبرکت ہے۔ [واللہ اعلم ] سوال: میرے ایک دوست کی شادی کوتقریباًدوسال ہوچکے ہیں۔ اس نے تقریباًایک سال قبل اپنی بیوی کو طلاق دی، پھر چند روز بعدرجوع کرلیا ،پھر تقریباًچھ ماہ قبل دوبارہ اپنی بیوی کو طلاق دیدی ،طلاق دینے کے دوسرے روزباہمی رضامندی سے رجوع کرلیا ،اب اس نے بایں الفاظ اپنی بیوی کوتیسری طلاق دے ڈالی ہے کہ تجھے یکم جون ۲۰۰۶ء میں طلاق ہوجائے گی اب بیوی خاوند کے درمیان جھگڑے کی بنیاد ختم ہوچکی ہے اوردونوں آیندہ خوشگوار زندگی گزارنے کے خواہاں ہیں۔ کیا ان کے لئے مل بیٹھنے کی کوئی صورت ممکن ہے؟ جواب: واضح رہے کہ شریعت اسلامیہ کی رو سے خاوند کواپنی زندگی میں دومرتبہ طلاق رجعی دینے کا حق ہے جوشخص اپنی منکوحہ کو دو مرتبہ طلاق دے کر اس سے رجوع کرچکاہو وہ آیندہ جب کبھی اس بیوی کوتیسری طلاق دے گا عورت اس سے مستقل طور پر جدا ہوجائے گی اورشوہر کے لئے حق رجوع بھی ساقط ہوجائے گا۔ارشاد باری تعالیٰ ہے : ’’طلاق دو بار دے، پھریا توسیدھی طرح عورت کوروک لیاجائے یابھلے طریقے سے اس کورخصت کر دیا جائے۔‘‘ [۲/البقرہ : ۲۲۸] صورت مسئولہ میں خاوند نے اپنی بیوی کودومختلف اوقات میں دوطلاقیں دی ہیں اورپھران سے رجوع بھی کر چکا ہے۔ اب اس نے مستقبل سے وابستہ مزید طلاق دے ڈالی ہے ۔ظاہرہے کہ شوہر دودفعہ اپناحق رجوع استعمال کرچکا ہے، اب اسے رجوع کاکوئی موقع اورحق نہیں رہا۔ مستقبل سے وابستہ طلاق کوبھی ائمۂ کرام نے نافذ العمل قراردیا ہے، البتہ اس کے وقت تاثیر میں اختلاف ہے۔ امام ابوحنیفہ اورامام مالک رحمہما اللہ کے نزدیک فوراًنافذ العمل ہو گی۔ آیندہ وقت کاانتظار نہیں کیاجائے گا جبکہ امام شافعی