کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 300
بیوی خاوند نے انہیں رجوع خیال کرکے اکٹھا رہناشروع کردیاہے حتی کہ عدت گزرچکی ہے توان کانکاح بھی ختم ہوچکا ہے اب انہیں فوراًالگ ہو جانا چاہیے، استبرائے رحم کے لئے چند دن تک توقف کیاجائے ،پھرنکاح جدید سے اپنی ازدواجی زندگی کا آغاز کیا جائے، نکاح جدید کے بغیربیوی خاوند کی حیثیت سے زندگی گزارنا گناہ کی زندگی ہے جس سے ایک مسلمان کواجتناب کرناچاہیے۔ [واللہ اعلم ] سوال: اپنی منگیتر کودیکھنے کے لئے کیا حدودہیں ،کیاانٹرنیٹ کے ذریعے اس کام کوسرانجام دیاجاسکتا ہے ،تصاویر کاتبادلہ کرنامنگنی کے لئے جائز ہے یانہیں، یہ اس لئے کیاجاتاہے تاکہ آیندہ شادی کرنے یانہ کرنے کے متعلق فیصلہ کرسکیں ،اس کے متعلق تفصیل سے آگاہ کریں ۔کتاب و سنت کی روشنی میں ا س کی وضاحت فرمائیں ؟ جواب: شرعی طورپراپنی منگیترکودیکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ اس کی وجہ سے باہمی شادی کرنے کافیصلہ آسان ہو جاتا ہے ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:’’جب تم میں سے کوئی کسی عورت سے منگنی کرے تواگرممکن ہوتواس سے وہ کچھ دیکھ لے جو اس کے لئے نکاح کاباعث ہو۔‘‘راوی حدیث حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مذکورہ ہدایت کے مطابق میں نے ایک لڑکی کوپیغام نکاح بھیجا ،میں اسے چھپ کردیکھنے کی کوشش کرتا رہا، بالآخر میں نے اس کے ان اعضاء کودیکھ ہی لیا جواس سے نکاح کے لئے باعث رغبت تھے ۔اس کے بعد میں نے اس سے نکاح کرلیا۔ [مسند امام احمد، ص: ۳۳۴،ج ۳] اسی طرح حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجودتھا ،اتنے میں ایک آدمی آیااوراس نے بتایا کہ میں نے ایک انصاری عورت سے شادی کاارادہ کیاہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’کیاتونے اسے دیکھا ہے ؟‘‘اس نے عرض کیا نہیں؟آپ نے فرمایا: ’’جاؤ اور اسے دیکھ لوکیونکہ انصار کی آنکھوں میں کوئی بیماری ہوتی ہے۔‘‘[صحیح مسلم،النکاح: ۱۴۲۴ ] جمہور علما کے ہاں منگیتر کاصرف چہرہ اور ہتھیلیاں دیکھنا مباح ہے کیونکہ چہرے سے اس کی خوبصورتی اوربدصورتی کاپتہ چلتا ہے اورہتھیلیوں سے عورت کے بدن کے نرم، درشت اورباریک اورموٹے ہونے کاعلم ہوتا ہے لیکن الگ سے ملاقات کرنا،خلوت میں گفتگو کرنا شرعاً حرام ہے۔اگردیکھنا ممکن نہ ہوتوکسی عورت کواس کے دیکھنے پرمامور کیاجاسکتا ہے، جیساکہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت سے شادی کرناچاہی، توایک عورت کواسے دیکھنے کے لئے بھیجااوراسے کہا کہ اس کے اگلے دانت سونگھے اوراس کی ایڑیوں کے اوپر والے حصّے کو دیکھے۔ [مستدرک حاکم، ص: ۱۶۶،ج ۲] اس حدیث میں معلوم ہوتا ہے کہ عورت کوبھیجنے سے وہ فوائد حاصل ہوسکتے ہیں جوخوددیکھنے سے حاصل نہیں ہوسکتے ۔ بہرحال اپنی منگیتر کودیکھنا جائز ہے لیکن اس کے لئے خاص اہتمام کرناحرام ہے اور دیکھنے کے لئے چارشرائط کاپایاجاناضروری ہے: 1۔ نکاح کرنے کا ارادہ ہو، اسے محض دل لگی اورمشغلہ کے طورپر سرانجام نہ دیاجائے ۔ 2۔ خلوت نہ ہو ،حدیث کے مطابق ایسے حالات میں شیطان گھس آتا ہے ۔ 3۔ فتنے یافسادکاڈرنہ ہو۔ 4۔ مشروع مقدار سے زیادہ نہ دیکھا جائے، اس سے مراد وہ حصے ہیں جو لڑکی عام طورپر اپنے بھائی بیٹے اور باپ کے سامنے جوکچھ