کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 295
عباس رضی اللہ عنہما نے عول کے مسئلہ میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے متفقہ مسئلہ میں اختلاف رائے کیا ۔اگرحضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی مخالفت مشہور نہ ہوتی توعول کے مسئلہ پراجماع قطعی کاحکم لگادینا یقینی ہوجاتا ۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عول کی ضرورت کوبایں الفاظ بیان فرمایا: ’’مجھے قرآن کریم سے یہ معلوم نہ ہوسکا کہ مقرر حصہ لینے والوں میں سے کون قابل تقدیم ہے، کون قابل تاخیر تاکہ مقدم کوپہلے اورمؤخر کوبعدمیں کر دیا جائے، اس لئے انہوں نے تمام اصحاب الفروض کے درمیان یکسانیت پیداکرنے کے لئے عول کاطریقہ جاری فرمایا۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے نزدیک خاوند قوی حق دار ہے، اس لئے اسے پورا پورا حصہ دیا جائے اوربہنیں کمزور حصہ دار ہیں ان کے حصوں میں کمی کی جائے ۔صورت مسئولہ میں مسئلہ چھ سے بنتا ہے لیکن سہام سات ہیں ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے نزدیک خاوند کوکل جائیداد سے نصف، یعنی 1/2دے دیاجائے اور بہنوں کے چار حصوں سے ایک حصہ کم کرکے انہیں صرف تین حصے دیے جائیں۔ اس طرح عول کی ضرورت نہیں رہتی ۔لیکن حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا موقف، اس لئے درست نہیں ہے کہ تمام مقرر کردہ حصہ لینے والے حقدار جوکسی درجہ میں جمع ہوں ازروئے استحقاق برابر ہیں اورکسی ایک کودوسرے پرترجیح نہیں دی جاسکتی۔چونکہ سب کااستحقاق بذریعہ قرآن کریم نازل ہوا ہے، لہٰذا سب کااستحقاق برابر ہوگا اورہرشخص اپنااپنا پوراحصہ لے گا اوراگر سب حصص موجود نہ ہوں، جیسا کہ موجودہ صورت میں ہے توسب کے حصوں میں برابر کمی کی جائے گی اورعول کے ذریعے سے جومخرج بڑھایا جاتا ہے اس کی وجہ سے جو نقصان عائد ہووہ تمام مستحقین پر بقدر تناسب پھیلا دیاجائے ۔یہی راجح ہے اور اسی پرامت کاعمل ہے، البتہ شیعہ حضرات نے اس سے اختلاف کیا ہے۔ وہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے موقف سے اتفاق کرتے ہیں اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کاساتھ چھوڑدیتے ہیں۔ ان کے نزدیک اگرجملہ حصص کی میزان جائیداد کی اکائی سے متجاوزکرجائے تو اس اضافہ کوبیٹیوں اوربہنوں کے حصص سے منہاکردیتے ہیں تومعلوم ہوتا ہے کہ صورت مسئولہ میں قاضی محمدخان کوبھی اس لئے اختلاف ہے کہ خاوند ہونے کی حیثیت سے ان کے حصہ میں عول کی وجہ سے معمولی سی کمی واقع ہوئی ہے، دلوں کے حالات تواللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ بظاہر قرائن سے یہی معلوم ہوتا ہے۔ باقی پٹواریوں کاحوالہ اس لئے دیا گیا کہ جائیداد اگرزمین کی شکل میں ہو توہر وارث کوکتنی کنال یامرلے یاکتنی سرسائیاں ملیں گیں اس تقسیم کی ذمہ داری مفتی پر نہیں ہے کیونکہ اس نے علم وراثت پڑھا ہے محکمہ مال کے کورس نہیں کئے ہیں، لہٰذاہم نے فتویٰ میں جومشورہ دیا ہے اس میں اللہ کی کسی حد کو نہیں توڑا ہے۔ اللہ تعالیٰ حق سمجھنے اوراس پرعمل کرنے کی توفیق عطافرمائے ۔ [واللہ اعلم ] سوال: میرے ایک دوست کی شادی تقریباًتین سال پہلے ہوئی ،اب وہ فوت ہو چکاہے اور اس کی کوئی اولاد نہیں ہے۔ پس ماندگان میں سے بیوہ اوراس کا ایک بڑابھائی ہے، واضح رہے کہ لڑکی کاسامان جہیز لڑکی کے پاس ہے اب اس کی جائیداد اور سامان جہیز کے جائز حقدار کون ہیں اوراس کی تقسیم کاکیاطریق کار ہے ؟ جواب: واضح رہے کہ والدین شادی کے موقع پر جہیز کی صورت میں جوکچھ اپنی بچی کودیتے ہیں وہ شرعاً اورعرفاًلڑکی کا حق ہے اوراس کی ملکیت ہوتا ہے اس میں کوئی دوسرا شریک نہیں ۔شادی کے بعد وہ سامان خاوند کی ملکیت نہیں بن جاتا، لہٰذاخاوند کی وفات کے بعد سامان جہیز کووراثت کے طورپر تقسیم نہیں کیاجائے گا ۔صورت مسئولہ میں متوفی کی جائیداد منقولہ اور غیرمنقولہ کے حقدار صرف