کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 289
٭ کیاباپ اپنے کسی نافرمان بیٹے کواپنی جائیداد سے عاق کرسکتا ہے۔ ٭ کیاباپ کے فیصلے کواس کے مرنے کے بعدکالعدم کیاجاسکتا ہے یانہیں۔ ٭ اگرباپ کی زندگی میں اس کے بچے کاروبار کرتے ہیں توان کی کمائی سے حاصل شدہ جائیدا د کی کیاحیثیت ہوگی ،کیا اسے باپ کے ترکے میں شمار کیاجائے گا یااسے اس کے ترکے سے الگ رکھاجائے گا، کتاب وسنت کی روشنی میں ان کا جواب مطلوب ہے؟ جواب: مندرجہ بالاسوالات کے جوابات بالترتیب حسب ذیل ہیں: ٭ دونوں بیویوں کواس کی منقولہ غیر منقولہ جائیداد سے آٹھواں حصہ ملے گا ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اگر اولاد ہوتوبیویوں کے لئے اس کے ترکے سے 1/8ہے ۔‘‘ [۴/النسآء:۱۲] بیویوں کو حصہ دے کرجوباقی بچے اسے اولاد میں اس طرح تقسیم کردیاجائے کہ ایک لڑکے کودولڑکیوں کے برابر حصہ ملے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اللہ تعالیٰ اولا د کے متعلق حکم دیتا ہے کہ مرد کاحصہ دوعورتوں کے برابر ہوگا۔‘‘ [۴/النسآء:۱۱] سہولت کے پیش نظر مرحوم کی منقولہ اورغیرمنقولہ جائیداد کے 152حصے کرلئے جائیں، ان میں سے 152کا1/8یعنی 19حصے دونوں بیویوں میں تقسیم کر دیے جائیں اورباقی 133حصے اس طرح تقسیم ہوں گے کہ 14,14حصے فی لڑکا اور7,7حصے فی لڑکی کو دیے جائیں، یعنی ایک لڑکے کو ایک لڑکی کے مقابلہ میں دوگناحصہ ملے۔ دونوں بیویوں کے حصے :19۔ چھ لڑکوں کے حصے: 14×84=6۔ سات لڑکیوں کے حصے: 7×49=7۔ میزان :152کل جائیدا د۔ ٭ اللہ تعالیٰ نے انسان کودنیا میں خودمختار بناکربھیجا ہے جس کامطلب یہ ہے کہ وہ شریعت کی حدود میں رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کوجس طرح چاہے استعمال کرسکتا ہے ۔مال بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک نعمت ہے، اس میں بھی تصرف کرنے کا پورا پوراحق ہے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کافرمان ہے: ’’ہرمالک اپنے مال میں تصرف کرنے کا زیادہ حق رکھتا ہے ،وہ اس حق کو جیسے چاہے استعمال کرسکتا ہے۔‘‘ [بیہقی ،ص :۱۷۸، ج ۶] (ا) اس تصرف کاضابطہ یہ ہے کہ یہ تصرف کسی ناجائز اورحرام کے لئے نہ ہو ۔ (ب) جائز تصرف کرتے وقت کسی شرعی وارث کومحروم کرنامقصودنہ ہو۔ (ج) اگریہ تصرف بطور ہبہ ہے تونرینہ اولاد کے ساتھ مساویانہ سلوک پرمبنی ہو۔ (د) اگریہ تصرف بطور وصیت عمل میں آئے توکسی صورت میں 1/3سے زیادہ نہ ہو اورنہ ہی کسی شرعی وارث کے لئے وصیت کی گئی ہو۔ صورت مسئولہ میں باپ کوچاہیے تھا کہ جائیداد دیتے وقت تمام اولاد بیٹوں اوربیٹیوں کوبرابر برابرجائیداد دیتا، جیسا کہ حدیث میں ہے کہ حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کواس کے والد نے ایک غلام بطور عطیہ دیااوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کواس پرگواہ بنانا چاہا