کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 288
سے حصہ مل سکتا ہے؟ اسی طرح اس کے دوسوتیلے بھائی بھی فوت ہوچکے ہیں جوکہ مرحوم کی دوسری بیوی سے ہیں، کیاان کی جائیداد سے سوتیلی بہن کوکچھ مل سکتا ہے اگرحصہ ملے گا توکتنا؟کتاب وسنت کی روشنی میںجواب دیں۔ جواب: وراثت کے لئے ضروری ہے کہ مرحوم اوراس کے پسماندگان کے درمیان کوئی خونی یاسسرالی رشتہ ہوجبکہ صورت مسئولہ میں پہلی بیوی کادوسری بیوی سے کوئی خونی یاسسرالی رشتہ نہیں ہے، اس لئے سوتیلی بیٹی اپنی سوتیلی ماں کی جائیداد سے کچھ نہیں حاصل کرسکتی ،اس طرح پہلی بیوی کی بیٹی کادوسری بیوی کی اولاد سے خونی رشتہ ہے کیونکہ وہ پدری بہن بھائی ہیں۔ وہ ایک دوسرے کے وارث بن سکتے ہیں بشرطیکہ حقیقی بہن بھائی موجود نہ ہوں ۔صورت مسئولہ میں دوسری بیوی کے بطن سے جواولاد پیداہوئی ہے ان میں سے دوبیٹے فوت ہوئے ہیں اوراس کے تین بیٹے اورایک بیٹی زندہ ہے۔ فوت ہونے والے بھائیوں کی جائیداد صرف حقیقی بہن بھائیوں کوملے گی جو2:1کی نسبت سے اسے تقسیم کریں گے، یعنی بھائی کوبہن سے دگنا حصہ دیا جائے گا۔ البتہ سوتیلی بہن جوصرف باپ کی طرف سے ہے وہ ان حقیقی بہن بھائیوں کی موجودگی میں محروم ہوگی، مختصر یہ ہے کہ پہلی بیوی کی بیٹی کو اپنی سوتیلی ماں اور سوتیلے بھائیوں سے کچھ نہیں ملے گا ۔ [واللہ اعلم] سوال: میرا ایک حقیقی چچا ہے جس کی اولاد نہیں ،اس کی سات بہنیں ہیں جوہماری پھوپھیاں ہیں۔ ہمارے چچا ہمارے ساتھ ہی رہتے ہیں اورہم اس کی ہرطرح سے خدمت کرتے ہیں چچا نے تمام رقبہ جواس کے نام تھا میرے نام لگوادیا ہے جس کے لئے ہم تقریباً چالیس ہزار روپیہ خرچ کرچکے ہیں۔ ہماری پھوپھیوں نے بھی اپنے بھائی سے ملنے والاحصہ زبانی طورپر مجھے دے دیا ہے، اس کی شرعی حقیقت واضح کریں؟ جواب: کسی کے فوت ہو نے کے وقت جو رشتہ دار زندہ ہوں انہیں مرحوم کی جائیداد سے حصہ دیا جاتا ہے۔ بشرطیکہ وراثت کے اسباب بھی موجود ہوں اور وہاں کوئی مانع، یعنی رکاوٹ نہ ہو۔ صورت مسئولہ میں کسی کو علم نہیں ہے کہ کس نے پہلے موت کا لقمہ بننا ہے، اس لئے موجودہ صورت حال کے پیش نظر بطور وراثت جائیداد تقسیم کرنا صحیح نہیں ہے۔ اگر چچا پہلے فوت ہو جائے تو اس کے حقیقی ورثا سات بہنیں اور سائل، یعنی حقیقی بھتیجا ہے۔ اگر پھوپھیوں نے برضا و رغبت کسی قسم کے دبائو کے بغیر اپنا حصہ سائل کو دیدیا ہے جو چچا کے فوت ہونے کی صورت میں انہیں ملنا تھا تو اس میں شرعاً کو ئی قباحت نہیں ہے۔ لیکن معاشرتی طور پر ہم اسے بہتر نہیں سمجھتے کیونکہ پھوپھیوں کی اولاد بھی ہو گی۔ ان کا پیٹ کاٹنا کسی صورت میں صحیح نہیں ہے، اس لئے جب انہیں حقیقتاً حصہ مل جائے تو پھر انہیں تصرف کرنے کاپورا پورا اختیار ہے۔ [واللہ اعلم] سوال: ہمارے ہاں ایک آدمی فوت ہوا، پس ماندگان میں دوبیویاں، چھ لڑکے اورسات لڑکیاں موجود ہیں ،اس نے اپنی زندگی میں جائیداد لگوادی جبکہ کچھ لڑکے اس کی زندگی میں برسرروزگار تھے ،انہیں کچھ نہیں دیاگیا ، باضابطہ طورپر انہیں الگ نہیں کیاگیا تھا برسرروز گار بیٹوں نے کچھ جائیداد ذاتی طور پربنائی ہے۔ ان حالات کے پیش نظر چند ایک سوالات کاجواب مطلوب ہے : ٭ مرحوم کی دونوں بیویاں اوراولاد کے اس کے ترکہ سے کیاحصص ہوں گے ۔ ٭ کیاباپ کواپنی زندگی میں کسی بیٹے کوکچھ دینے کااختیار ہے اگر ہے تواس کاضابطہ کیاہے ۔