کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 287
5۔ نقدرقم 15,50,000(ساڑھے پندرہ لاکھ) جو والدہ نے اپنی بیٹیوں کودینے کے ارادہ سے اپنے پاس رکھی ہے، اسے بھی باپ کے ترکہ میں جمع کیاجائے گا۔ کل ترکہ سے 5لاکھ منہاکیا جائے گا جوقرضے کی حد میں قرض خواہ کودیا گیاہے۔ اس طرح باپ کاقابل تقسیم ترکہ چارکروڑ روپے ہے۔ بیوہ کا1/8ہے جوکل جائیداد سے آٹھواں حصہ پچاس لاکھ بنتا ہے۔ باقی ساڑھے تین کروڑ اولاد میں اس طرح تقسیم کیاجائے گا کہ ایک لڑکے کولڑکی سے دگنا ملے گا۔ چونکہ پانچ لڑکے اورچارلڑکیاں ہیں، اس لئے بیوی کاحصہ نکالنے کے بعد باقی ترکہ کوچودہ حصوں میں کیاتوایک حصہ پچیس لاکھ ہے جوایک لڑکی کاحصہ ہے ۔اس سے دگنا حصہ، یعنی پچاس لاکھ ایک لڑکے کوملے گا۔ تفصیل اس طرح ہوگی: بیوی کاحصہ :پچاس لاکھ روپے ۔ چارلڑکیوں کاحصہ :ایک کروڑ فی لڑکی پچیس لاکھ روپے۔ پانچ لڑکوں کاحصہ :دوکروڑ پچاس لاکھ روپے فی لڑکا پچاس لاکھ روپے۔ میزان :4کروڑروپے ۔ نوٹ: مرحوم نے اپنے بیٹے مرحوم کی اولاد کے متعلق کوئی وصیت نہیں کی ہے، ہمدردی کے طورپر مذکورہ ورثا اگران یتیم بچوں کوکچھ دیناچاہیں تواس پرکوئی پابندی نہیں بلکہ ان کے ساتھ ہمدردی کرناضروری ہے ۔ [واللہ اعلم ] سوال: ہمارے ہاں ماموں کوجواپنے والدین، یعنی ہمارے نانا اورنانی کی طرف سے جائیداد ملی تھی، اس سے بہن، یعنی ہماری والدہ کوحصہ نہیں دیا گیا جبکہ وہ جائیداد کی تقسیم کے وقت زندہ تھی کیاہم اپنے ماموں سے اپنی والدہ کے حصہ کامطالبہ کرسکتے ہیں؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب دیں۔ جواب: مردوں اورعورتوں کے حصہ کے متعلق ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’مردوں کے لئے اس مال سے حصہ ہے جووالدین اورقریبی رشتہ دار چھوڑجائیں (اسی طرح )عورتوں کے لئے بھی اس مال سے حصہ ہے جووالدین اورقریبی رشتہ دار چھوڑجائیں، خواہ یہ ترکہ تھوڑایازیادہ ہوہرایک کاطے شدہ حصہ ہے‘‘ ۔ [۴/ النسآء :۷] عرب معاشرے میں عورتوں کوجائیداد سے حصہ دینے کادستور نہ تھا بلکہ عورت خودورثہ شمارہوتی تھی۔ اس آیت کریمہ کی رو سے اللہ تعالیٰ نے عورت کواس ذلت کے مقام سے نکال کر وراثت میں حصہ داربنایا ہے لیکن ہم لوگ اس صنف نازک کومحروم کرکے دورجاہلیت کی طرف پلٹ رہے ہیں۔ صورت مسئولہ میں سائل کے نانا، نانی کے ترکہ سے جہاں اس کے ماموں کوحصہ ملاہے اس میں والدہ بھی شریک ہے اگر ماموں نے اپنی بہن کوزندگی میں اسے والدین کے ترکہ سے محروم رکھا ہے توبھانجے کوحق ہے کہ وہ اس سے اپنی والدہ کے حصہ کامطالبہ کرے ۔یہ اس کاقانونی اورشرعی حق ہے جوکسی صورت میں ساقط نہیں ہوسکتا۔ سوال: ایک آدمی کی دوبیویاں ہیں پہلی بیوی سے ایک بیٹی اور دوسری سے پانچ بیٹے اورایک بیٹی ہے۔ وہ آدمی فوت ہوچکا ہے۔ اس کی جائیداد 31کنال رقبہ ہے۔ اس میں تمام ورثا شریک ہیں۔ دوسری بیوی جس سے پانچ بیٹے اورایک بیٹی ہے اسے اپنے والد کی طرف سے 20کنال زمین ملی ہے، اب دونوں بیویاں فوت ہوچکی ہیں کیا پہلی بیوی کی بیٹی کودوسری بیوی کی جائیداد