کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 286
جواب: بیوہ کوعدت وفات گزارنے کے بعد عقدثانی کی اجازت ہے۔ اس دوران خاوند کی جائیداد کوتقسیم کردینا چاہیے۔ اگر کسی وجہ سے جائیداد تقسیم نہیں ہوتی ہے توعقدثانی کرنے سے اس کاپہلے خاوند کی جائیدادسے حصہ ختم نہیں ہوجاتا ہے اگر خاوند کی اولاد ہے تواسے کل جائیداد سے آٹھواں حصہ اگراولادنہیں ہے توبیوہ چوتھے حصہ کی حقدار ہے۔ عقد ثانی اس کے وراثتی حصہ پر اثر انداز نہیں ہو گا، ایسی باتیں جہلاء کی پھیلائی ہوئی ہیں۔ سوال: ہم چھ بھائی اورچاربہنیں ہیں،ایک بہن اوردوبھائیوں کاذہنی توازن درست نہیں ہے۔ ہمارے والد فوت ہوچکے ہیں جبکہ والدہ بقید حیات ہیں ۔واضح رہے کہ ہماراایک بھائی والد مرحوم کی زندگی میں فوت ہوچکا تھا، اس کے تین بچے ہیں۔ قرآن وحدیث کے مطابق والد مرحوم کی وراثت کیسے تقسیم ہوگی موجودہ جائیداد کی تفصیل کچھ اس طرح ہے ،ایک بیٹاوالد کی زندگی میں اپناالگ کاروبار کرتا تھا، اس نے بیوی کازیوربیچ کرایک مکان خریدا جس کی موجودہ مالیت 35لاکھ ہے ،اسے والد نے ایک دکان بھی دی اس کی مالیت تقریباًساٹھ لاکھ ہے ۔دوبیٹے والد کے ساتھ کاروبار کرتے تھے، ایک بیٹے کو35لاکھ کامکان لے کردیا جووالد کی زندگی میں فوت ہو گیا، دوسرے بیٹے کوساڑھے آٹھ لاکھ کامکان دیا جس کی موجودہ مالیت 30لاکھ ہے۔ والد مرحوم نے اپنی زندگی میں دودکانیں اورایک گودام مزیدخریدا تھا۔ ہماری والدہ نے ایک مکان کے دوحصے کرکے آدھا حصہ ایک بیٹے کودوسرا نصف مرحوم بیٹے کی اولادکودے دیا ۔اس کی مالیت بھی 80لاکھ ہے اوردوسری دکان ایک دوسرے بیٹے کو دے دی جس کی مالیت 45لاکھ ہے اس کے پاس 30لاکھ مالیت کامکان بھی موجودہے۔والدہ نے ایک پلاٹ جووالد کی ملکیت تھا اپنے تیسرے بیٹے کودے دیا جس کی مالیت 2لاکھ ہے والد کاخریداہوا گودام 28لاکھ میں فروخت ہوا ۔اس سے پانچ لاکھ والد مرحوم کاقرضہ اتارا اور7-1/2 لاکھ اپنی بہو کودے دیاکیونکہ بیٹے کاذہنی توازن درست نہیں، باقی 15-1/2لاکھ اپنی بیٹی کودینے کاارادہ ہے، ہمارے والد کے ترکہ کی تقسیم شریعت کے مطابق کیسے ہو گی؟ جواب: تقسیم جائیداد سے قبل چند ایک باتوں کا بتاناضروری ہے ۔ جوبیٹا والد کی زندگی میں فوت ہوا ہے اسے اور اس کی اولاد کوباپ کی جائیداد سے کچھ نہیں ملے گا، اس لئے والد کاترکہ پانچ بیٹوں اور چاربیٹیوں میں تقسیم ہوگا ۔ 2۔ والد کواپنی زندگی میں کمی پیشی کے ساتھ جائیداد دینے کی شرعاًممانعت ہے، اس لئے اس نے اپنی زندگی میں جس کوجوجائیداد دی ہے وہ کالعدم ہے ۔سب جائیداد کواکٹھا کرکے ازسرنوتقسیم کرناہو گا۔ یادرہے کہ والد نے اپنے بیٹے کومشترکہ کاروبار سے 35لاکھ روپے کاجومکان دیا تھا اوروہ اس کی زندگی میں فوت ہوگیامذکورہ مکان کی مالیت متروکہ جائیدا د میں شمارہوگی ۔ 3۔ والدہ کوبھی یہ اختیار نہیں تھا کہ وہ اپنے مرحوم شوہر کے ترکہ کواپنی مرضی سے تقسیم کرے، اس لئے اس کی تقسیم بھی کالعدم ہے۔حتی کہ جونصف دکان جس کی مالیت 80لاکھ ہے۔ اپنے مرحوم بیٹے کی اولاد کودی ہے وہ بھی باپ کے ترکہ میں شامل ہوگی ۔ 4۔ جس بیٹے نے اپنی بیوی کازیوربیچ کر مکان خریدا جس کی موجودہ مالیت 35لاکھ روپے ہے، وہ باپ کے ترکہ میں شامل نہیں ہوگا کیونکہ وہ بیٹا والدین سے الگ تھااوراپناعلیحدہ کاروبار کرتا تھا اوراس نے اپنی بیوی کے زیورات بیچ کرمکان خریداتھا۔