کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 284
متروکہ جائیداد کے کل چھ حصے کرلئے جائیں دو، دوحصے دوبہنوں کو دیے جائیں پھر باقی دوحصوں کو برابربرابر بھتیجوں پرتقسیم کردیا جائے۔ [واللہ اعلم] سوال: ایک آدمی فوت ہوا ،اس کی ایک بیٹی ،ایک حقیقی بہن اورایک چچا زاد بھائی ہے ان کے علاوہ اورکوئی وارث نہیں ہے فوت ہونے والے کی جائیداد کیسے تقسیم ہو گی؟ جواب: بیٹی کومرحوم کی کل جائیداد سے نصف حصہ دیا جائے ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اگر (مرنے والے کی) صرف ایک ہی لڑکی ہوتواس کانصف حصہ ہے۔‘‘ [۴/النساء :۱۱] حقیقی بہن اورچچازادبھائی کے متعلق مختلف احادیث میں ہے کہ بہنوں کوبیٹیوں کے ہمراہ عصبہ بناؤ، یعنی بیٹی کی موجودگی میں بہن عصبہ مع الغیرہے اوراسے بیٹی سے بچاہواترکہ دیاجائے۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس موقف سے اختلاف کیاہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ بیٹی کو نصف دینے کے بعد باقی دوسرے عصبہ کودیاجائے اگر کوئی عصبہ نہیں ہے تو باقی نصف بھی بیٹی کودے دیاجائے اوربہن کوکسی صورت میں کچھ نہ دیاجائے۔ [فتح الباری، ص: ۳۰،ج ۱۲] ایک دوسری حدیث میں ہے کہ مقرر ہ حصہ دینے کے بعد جوباقی بچے وہ میت کے قریبی مذکررشتہ دار وں کودیاجائے۔ [صحیح بخاری، حدیث نمبر :۶۷۳۲] اس حدیث کاتقاضا ہے کہ بیٹی کو اس کاحصہ دینے کے بعد باقی نصف چچازاد بھائی کودیاجائے ،اب ہم نے وجوہ ترجیح کی بنیاد پرایک کو حصہ دینا ہے، چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ وراثت میں عام طورپر یہ اصول ہے کہ قریبی رشتہ داروں کی موجودگی میں دور کے رشتہ دار محروم ہوتے ہیں ۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں میت کے ساتھ اس کی بہن کارشتہ چچازاد بھائی کے اعتبار سے قریبی ہے، اس لئے بہن کوعصبہ قراردے کراسے وارث بنایاجائے اور چچازاد کومحروم کیاجائے گا ۔دوسری وجہ ترجیح یہ ہے کہ وراثت کاقاعدہ ہے کہ جب بہن عصبہ مع الغیر ہوتی ہے تواسے بھائی کادرجہ حاصل ہوجاتا ہے، یہ بہن ہر رشتہ دار کو محروم کردیتی ہے جسے بھائی محروم کرتا ہے۔ اس ضابطہ کے مطابق بھی چچا زاد بھائی محروم ہے کیونکہ حقیقی بھائی کی موجودگی میں چچا زاد بھائی محروم ہوتا ہے جب بھائی اسے محروم کرتا ہے توبہن جوعصبہ مع الغیر ہونے کی حیثیت سے بھائی کے قائم مقام ہے وہ کیوں محروم نہ کرے گی۔اس بنا پر ہمارے نزدیک صورت مسئولہ میں نصف بیٹی کودے کرباقی نصف حقیقی بہن کودیاجائے ۔ [واللہ اعلم ] سوال: ایک آدمی کے تین بیٹے اورایک بیٹی ہے، میاں بیوی خودبھی حیات ہیں شرعی اعتبار سے جائیداد کی تقسیم کیسے ہو گی؟ جواب: سوال میں اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی کہ کس کی جائیداد کوتقسیم کرنا ہے، پھرزندگی میں یامرنے کے بعد جائیداد تقسیم کرنے کا مسئلہ درپیش ہے۔ قارئین کرام سے گزارش ہے کہ وہ وراثت کے سوالات خوب واضح کرکے لکھا کریں، زندگی میں انسان اپنی جائیداد کے متعلق خودمختار ہے۔ اپنی ضروریات کے لئے جتنی جائیداد چاہیے صرف کردے اس سے کوئی باز پرس نہ ہو گی۔ البتہ اپنی اولاد میں تقسیم کرنے کے لئے مساوات کوپیش نظررکھنا ہو گا۔ اس مساوات میں مردوزن کی بھی تفریق نہیں ہے، یعنی لڑکوں اور لڑکیوں میں برابربرابر تقسیم ہوگی۔ صورت مسئولہ میں بیوی کو صوابدیدی حصہ دے کرباقی جائیداد کوچارحصوں میں تقسیم کردیا