کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 283
ان احادیث کے پیش نظر ہمیں وصیت کے معاملہ میں احتیاط سے کام لیناچاہیے ۔صورت مسئولہ میں وصیت کے متعلق جوکوتاہی کی گئی ہے لواحقین کوچاہیے کہ پنجائتی سطح پراس کی اصلاح کی جائے تاکہ مرحوم کواخروی بازپرس سے نجات ملے ۔ناجائز وصیت کی اصلاح کرناضروری ہے اوریہ قرآن کریم کاایک اہم ضابطہ ہے۔ جس میں کوتاہی نہیں کرنی چاہیے ۔ [واللہ اعلم ] سوال: ہم تین بھائیوں نے اپنے والدمحترم کے ساتھ مل کر ایک قطعہ زمین خریداتھا۔ ہماراچوتھا بھائی عرصۂ دراز سے بالکل الگ تھلگ رہتا ہے اوراس نے مذکورہ زمین کی خریداری میں کوئی پائی پیسہ بھی نہیں دیاتھا ۔وہ بھی اس قطعہ زمین سے حصہ لینے کادعویدار ہے۔ والد کی وفات کے بعدشرعی طورپر اس زمین میں اس کاکتناحصہ بنتا ہے، نیزہماری دوبہنوں اوروالدہ کاحصہ بھی بتا دیں؟ جواب: باپ کے پاس رہنے والی اولاد کی کمائی باپ کی ہی شمار ہوتی ہے اِلاَّیہ کہ اولاد کاالگ حق ملکیت تسلیم کرلیاجائے۔ صورت مسئولہ میں قطعہ زمین خریدتے وقت تینوں بیٹے باپ کے ساتھ شراکت کے طورپر حصہ داربنے ہیں، یعنی ان کاالگ حق ملکیت تسلیم کرلیاگیا ہے ۔ایسی صورت حال کے پیش نظر اگرباپ کوضرورت ہوتو وہ قطعہ زمین اپنے لئے رکھ سکتا ہے، جیسا کہ حدیث میں ہے: ’’تو اور تیرا مال باپ کے لئے۔‘‘ لیکن باپ کی طرف سے اس قسم کی ضرورت کا اظہار کئے بغیر بھائی کویہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اس حدیث کی آڑ میں پورے قطعہ زمین سے اپنا حق لینے کا دعویٰ کرے۔وہ صرف اتنے حصے میں شریک ہوگا جو باپ کاحصہ رسدی ہے، مثلاً: اگر زمین خریدتے وقت باپ کاچوتھا حصہ تھا تواس کا وہ بیٹا جوزمین خریدنے میں شریک نہیں ہوا صرف باپ کے چوتھے حصے میں دوسرے ورثا کے ساتھ شریک ہوگا ۔اب باپ کی وفات کے بعد پس ماندگان میں اس کی بیوہ ،دوبیٹیاں اورچاربیٹے ہیں، اس لئے باپ کی کل جائیداد سے بیوہ کو1/8اورباقی 7/8 بیٹے اوربیٹیاں اس طرح تقسیم کریں کہ ایک بیٹے کو بیٹی سے دوگناملے۔ سہولت کے پیش نظر متوفی کی کل جائیداد کے 80حصے کرلئے جائیں۔ان میں آٹھواں حصہ، یعنی 10حصے بیوہ کو دیے جائیں اورباقی 70 حصوں کو چودہ حصے فی لڑکا اورسات حصے فی لڑکی کے حساب سے تقسیم کر دیے جائیں۔ متوفی:80 = بیوہ 10لڑکا 14لڑکا 14لڑکا 14لڑکا 14لڑکی 7لڑکی 7 [واللہ اعلم ] سوال: ایک آدمی فوت ہوا اس کی دوبہنیں اوردوبھتیجے زندہ ہیں اس کی اولاد یاوالدین موجودنہیں ہیں اس کے ترکہ کی شرعی تقسیم کیا ہو گی؟ جواب: اگرکسی فوت ہونے والے کے والدین یااولاد میں سے کوئی زندہ نہ ہو تواسے کلالہ کہاجاتا ہے۔ اس کے ترکہ کے متعلق شرعی ہدایات یہ ہیں کہ اگر اس کی ایک حقیقی بہن ہے تو اسے کل جائیداد سے نصف ملے گا اگردویادوسے زیادہ بہنیں ہوں تو انہیں دوتہائی ملتا ہے۔ قرآن مجیدمیں اس کی صراحت ہے۔ [۴/النساء :۱۷۶] صورت مسئولہ میں فوت ہونے والے کی دوبہنیں ہیں، لہٰذا انہیں فوت ہونے والے کی جائیداد سے دوتہائی دیاجائے گا اورباقی ایک تہائی اس کے دو بھتیجوں میں تقسیم ہو گی، جیسا کہ حدیث میں ہے: ’’مقررہ حصہ لینے والوں سے جوحصہ بچ جائے وہ میت کے قریبی مذکررشتہ دارکودیاجائے ۔‘‘ [صحیح بخاری ،الفرائض :۶۷۳۲]