کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 277
دلجوئی اورحوصلہ افزائی کے طورپرانہیں بھی کچھ دے دیاجائے لیکن انہیں کچھ دینازندہ بھائی کی صوابدیدپر موقوف ہے، اگروہ نہ چاہے تواس پرجبر نہیں کیاجاسکتا۔ اصولی طورپر مرنے والے کی جائیداد کامالک صرف اس کابھائی ہوگا ۔یتیم بھتیجے اس کی موجودگی میں محروم ہیں ۔ [واللہ اعلم بالصواب] سوال: ایک آدمی فوت ہوا ،پس ماندگان میں ایک بیٹی ،ایک بھتیجا ،ایک نواسااوردونواسیاں موجود ہیں۔ اس کا کل ترکہ 21کنال زرعی رقبہ ہے اس کی شرعی تقسیم کیاہوگی ،کیاوہ لڑکی جواس کی زندگی میں فوت ہوگئی تھی ،اس کاحصہ اس کی اولاد، یعنی مرنے والے کی نواسیوں اورنواسوں کوملے گا یا نہیں؟ جواب: جب کوئی آدمی فوت ہوجاتا ہے تواس کے ترکہ سے حصہ پانے والوں کی تین اقسام ہیں : ٭ اصحاب الفروض:جن کاحصہ قرآن وسنت میں طے شدہ ہے ۔سب سے پہلے انہیں ان کامقرر ہ حصہ دیاجاتا ہے ۔ ٭ عصبات :جن کاحصہ طے شدہ نہیں ہوتا بلکہ اصحاب الفروض سے بچا ہواترکہ لیتے ہیں اگرکوئی چیز نہ بچے تویہ محروم قرارپاتے ہیں۔ اگر اصحاب الفروض نہ ہوں توتمام ترکہ انہیں مل جاتا ہے ۔ ٭ ا ولوالارحام :وہ رشتہ دارجوکسی عورت کے واسطے سے میت کی طرف منسوب ہوتے ہیں ۔اصحاب الفروض اور عصبات کے نہ ہونے کی صورت میں انہیں حصہ دیاجاتا ہے۔ صورت مسئولہ میں بیٹی اصحاب الفروض اوربھتیجا عصبات سے ہے جبکہ نواسا اور دونواسیاں اولوالارحام سے تعلق رکھتی ہیں ۔بیٹی کاحصہ قرآن کریم میں طے شدہ ہے، یعنی مرنے والے کی جائیداد سے نصف ترکہ اسے دیاجائے گا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ’’اگر(بیٹی)ایک ہی ہوتو اس کا نصف حصہ ہے۔‘‘ [۴/نسآء :۱۱] اوربھتیجا عصبات سے ہے اوربیٹی سے بچے ہوئے ترکہ کاحق دار ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاارشاد گرامی ہے: ’’مقررہ حصے حق داروں کودو،ان سے جوبچ جائے وہ میت کے قریبی مذکر رشتہ داروں کے لئے ہے۔‘‘ [صحیح بخاری ،الفرائض :۶۷۴۶] ایک نواسے اور دو نواسیوں کا تعلق چونکہ اولوالار حام سے ہے، اصحاب الفروض اورعصبات کی موجودگی میں انہیں کچھ نہیں ملتا جولڑکی مرحوم کی زندگی میں فوت ہوگئی تھی اسے بھی ترکہ سے کچھ نہیں دیاجائے گا کیونکہ ترکہ لینے کے لئے شرط ہے کہ صاحب جائیداد کی وفات کے وقت زندہ ہو ،جب اس بیٹی کوترکہ سے حصہ نہیں ملتا تواس کی اولاد کوبھی کچھ نہیں ملے گا ۔سہولت کے پیش نظر مرحوم کی جائیداد کودوحصوں میں تقسیم کرلیاجائے ایک حصہ بیٹی کواوردوسراحصہ بھتیجے کودے دیا جائے، یعنی 21کنال میں سے دس کنال دس مرلے بیٹی کواور دس کنال دس مرلے بھتیجے کو دے دیے جائیں ۔ [واللہ اعلم ] سوال: ہمارے والد محترم وفات پاچکے تھے اوران کے چار بچے، یعنی دوبیٹے اوردوبیٹیاں بقید حیات ہیں، جبکہ ایک بیٹی ان کی وفات سے پہلے فوت ہوچکی تھی۔ ان کی اولاد میں سے دوبیٹے اور دوبیٹیاں شادی شدہ موجود ہیں، کیامرحوم کے ترکہ سے فوت شدہ بہن یا اس کی موجودہ اولاد کوکچھ حصہ ملے گایانہیں ؟قرآن وحدیث کی روشنی میں وضاحت فرمائیں ۔ جواب: وراثت کاایک ضابطہ ہے کہ قریبی رشتہ دار کی موجودگی میں دوروالا رشتہ دارمحروم ہوتا ہے، مثلاً: بیٹے کی موجودگی میں پوتا یابیٹی کی موجودگی میں نواسہ یا نواسی محروم ہوگی۔ صورت مسئولہ میں مرحوم کے دوبیٹے اوردوبیٹیاں ہی وارث ہوں گی۔ ان کی موجودگی