کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 275
میں شرعاً کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ یہ ہبہ کی ایک صورت ہے۔ اب بھائی کے لڑکے یعنی بھتیجے کواس پراعتراض کاکوئی حق نہیں ہے جب ہبہ برضا ورغبت بلاجبر واکرا ہ ہو تواسے واپس نہیں لیاجاسکتا ۔حدیث میں ہے کہ ’’جوہبہ دے کرواپسی کامطالبہ کرتا ہے وہ کتے کی طرح ہے جوقے کرنے کے بعد اسے چاٹتا ہے۔‘‘ [ابو داؤد ،البیوع :۳۵۴۰] لہٰذا اس کاحل یہی ہے کہ پوتے کے نام الاٹ شدہ زمین واپس نہ لی جائے اورکسی دوسرے کواس عطیہ پرکوئی اعتراض نہیں ہوناچاہیے ،کیونکہ یہ اچھے اورخوشگوار ماحول میں سرانجام پایا ہے ۔ [واللہ اعلم بالصواب] سوال: ہم پانچ بھائی اور تین بہنیں ہیں اور ایک بہن والدین کی زندگی میں ہی فوت ہوچکی تھی ،اس کی اولاد موجود ہے، بڑے تینوں بھائیوں کی شادی ہوچکی ہے۔ وہ والدین سے الگ رہتے ہیں، والدمحترم نے قرض لے کرکسی شہر میں جگہ خریدی اوراس کی رجسٹری بھی ان کے نام ہے۔ چھوٹے دوبھائیوں نے محنت مزدوری کرکے والدمحترم کاقرضہ اتار ااورجگہ کی تعمیر پراٹھنے والے اخراجات برداشت کئے۔ اس کے علاوہ بہنوں کی شادیاں بھی کیں ۔اس میں بڑے بھائیوں کاکوئی حصہ نہیں ہے، جب عمارت پراخراجات کی بات ہوتی تووالدمحترم کہتے کہ اس میں اسی کاحصہ ہوگا جس نے خرچ کیاہے۔ اب والدین فوت ہوچکے ہیں اس شہری مکان کے متعلق اب بھائیوں نے کہناشروع کردیا کہ اس میں فلاں فلاں کاحصہ ہے۔ براہ کرم اس کاکوئی ایسا شرعی حل بتائیں کہ والدمحترم پربھی کوئی بوجھ نہ ہو اورکسی بھائی کی حق تلفی بھی نہ ہو؟ جواب: تقسیم جائیداد کے سلسلہ میں چند چیزوں کوپیش نظررکھنا ضروری ہوتاہے۔ ٭ مرنے کے بعد ہرقسم کی جائیداد قابل تقسیم ہوتی ہے، خواہ وہ وراثت کے طورپر ملی ہویامحنت کرکے اسے اپنی جائیداد میں شامل کیا ہو، یہ ذہن غلط ہے کہ صرف وہ ترکہ قابل تقسیم ہوتا ہے جووراثت کے طورپرملاہو۔ ٭ جائیداد سے ان رشتہ داروں کوحصہ ملتا ہے جووفات کے وقت بقیدحیات ہوں، اگرکوئی رشتہ دار پہلے فوت ہوچکا ہے تو اس کاحصہ نہیں رکھاجاتا اورنہ ہی اس کی اولاد کومنتقل ہوتا ہے۔ لہٰذاصورت مسئولہ میں جوبہن والد کی زندگی میں فوت ہوچکی تھی اسے کچھ نہیں ملے گا اورنہ ہی اس کی اولاد کوکچھ دیا جا سکتا ہے۔ ہاں، اگر بھائی چاہیں تواپنے حصے سے انہیں دے سکتے ہیں ۔ ٭ مرنے والے کی جائیداد سے حصہ لینے کے لئے یہ شرط نہیں ہے کہ کون والد کاخدمت گزارتھا اورکون اس خدمت سے پیچھے رہتا تھا ۔البتہ شادی کے بعد والدین کی خدمت کافریضہ ساقط نہیں ہوجاتا کہ وہی بچے والدین کی خدمت کریں جو اس کے ساتھ رہتے ہیں۔ اس لئے صورت مسئولہ میں وہ مکان مشترکہ طور پر تقسیم ہو گا جس کی یہ صورت ہوگی کہ اس کی موجودہ مارکیٹ کے مطابق قیمت لگائی جائے، پھر اسے بارہ حصوں میں تقسیم کرکے دو،دوحصے ہرایک بیٹے کو اورایک ایک حصہ ہر ہربیٹی کو دے دیاجائے، اگر اورکوئی جائیداد ہے تواسے بھی اسی شرح سے تقسیم کیا جائے۔ ٭ چونکہ اس جگہ کی خریداری پر لیاگیا قرضہ چھوٹے دوبھائیوں نے اتارا ہے اور تعمیر پراٹھنے والے اخراجات انہوں نے برداشت کئے ہیں، اس لئے قرضہ اورتعمیر کے اخراجات دیگر ورثا کی طرف سے انہیں ادا کر دیے جائیں۔ اس کے بعد مکان میں انہیں شریک کیاجائے ،ان پرزیادتی کسی صورت میں نہیں ہونی چاہیے۔ انہیں بھی چاہیے کہ جواخراجات انہوں نے تعمیر کے سلسلہ میں برداشت