کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 274
کی زندگی میں قائم ہوچکا تھا مگروہ اس کی ملکیت میں موت کے بعد داخل ہوئی، جیسا کہ کسی شخص نے کسی کمپنی کے حصص خریدنے کی درخواست دی تھی لیکن وہ حصص اس کے مرنے کے بعد الاٹ ہوئے ،یہ حصص بھی میت کے ترکہ میں شمار ہوں گے۔ ترکہ کے متعلق چند اصولی باتیں حسب ذیل ہیں: ٭ ایسا مال جومرتے وقت میت کے قبضہ میں تھا لیکن شریعت کی نظر میں وہ مال نہیں، وہ ترکہ میں شمار نہیں ہو گا، جیسے ذخیرۂ شراب وغیرہ ۔ ٭ جومال چوری ،خیانت ،رشوت اورغصب کرکے حاصل کیاہو،وہ بھی میت کے ترکہ میں شامل نہیں کیاجائے گا۔ ٭ بیمہ سے حاصل ہونے والی رقم میت کے ترکہ میں داخل نہ ہوگی کیونکہ اس میں واضح طورپر غرر، یعنی دھوکہ پایا جاتا ہے اور یہ رقم کھلے طورپر جوئے کے حکم میں ہے، البتہ میت کی طرف سے اداشدہ رقم اس کے ترکہ میں شمار ہو گی۔ (بیمہ کے متعلق ہماراتفصیلی فتویٰ عنقریب اشاعت پذیرہوگا ) ٭ اسی طرح جی پی فنڈ کے متعلق بھی ہمارا تفصیلی فتویٰ شائع ہوچکا ہے کہ اس میں میت کی وہی رقم ترکہ میں شامل کی جائے گی جواس کی تنخواہ سے ماہ بماہ کاٹی جاتی تھی۔اس سے زائد ملنے والی رقم سود ہونے کی وجہ سے اس کے ترکہ میں شمار نہیں ہو گی۔ اس قسم کے اموال جواوپر بیان ہوئے ہیں اگرورثا انہیں آپس میں بحصہ شرعی تقسیم کرتے ہیں تووہ اللہ کے ہاں جوابدہ ہیں، جیسا کہ میت کا بھی اس کے متعلق مواخذہ ہوگا ،لاعلمی کی صورت میں ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ معاف کردے۔ ٭ میت کی پنشن جواس کی زندگی میں حکومت یاکسی ادارہ کے ذمے واجب ہوچکی تھی، وہ میت کاترکہ شمار ہوگی کیونکہ یہ رقم حسب قواعد ،ملازمت کی ایک مدت کے اختتام پرملازم کاحق قرارپاتی ہے اوریہ حق قابل چارہ جوئی عدالت ہوتا ہے۔ اگرپنشن حکومت یاادارہ کی طرف سے انعام بھی ہو،جیسا کہ بعض اہل علم کاخیال ہے توبھی اس انعام کومیت کے ترکہ میں ہی شمار کیاجائے گا، جیسا کہ مقتول کی دیت کواس کے ترکہ میں شمار کرکے ورثا میں تقسیم کیاجاتا ہے۔ صورت مسئولہ میں مرحوم کی وفات کے بعد جوامدادی فنڈ بیوہ یااس کے بچوں کوملا ہے وہ انہی کاحق ہے ۔والدین کواس سے کچھ نہیں ملے گا کیونکہ اسے ترکہ میں شمارنہیں کیا جا سکتا اورجورقم امدادی فنڈ کے طورپر نہیں اس پرضابطہ وراثت جاری ہوگا۔اس میں والدین کاچھٹا،چھٹاحصہ ہے یعنی دونوں (ماں باپ) 1/6، 1/6کے حقدار ہیں۔ ان میں جورقم شریعت کی خلاف ورزی پرحاصل ہوئی ہے، اس سے ورثا کودستبردارہوجاناچاہیے ۔ [واللہ اعلم ] سوال: ایک آدمی کے دولڑکے اوردولڑکیاں ہیں۔ اس نے اپنی ایک لڑکی کے نام اپنی 88ایکڑزمین میں سے 10ایکڑزمین الاٹ کر دی۔ اس کے بعد اس لڑکی نے اپنی اوراپنے لڑکے کی رضامندی سے اپنے باپ سے ملنے والی زمین اپنے پوتے کے نام منتقل کردی ۔اب لڑکی کابھتیجامطالبہ کرتا ہے کہ وہ زمین واپس لی جائے اورجس کے نام زمین باہمی رضامندی سے الاٹ کی گئی تھی وہ واپس نہیں کرتا۔قرآن وحدیث کی روشنی میں اس کا کیا حل ہے؟۔ جواب: جوزمین لڑکی کواپنے والد کی طرف سے ملی ہے وہ اس میں اپنی مرضی کے مطابق تصرف کرسکتی ہے کیونکہ وہ اب اس کی ملکیت ہے ۔اگراس نے اپنے قریبی وارث بیٹے کی موجودگی میں اس کی رضامندی سے اپنے پوتے کے نام منتقل کردی ہے تو اس