کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 273
7،حصے دیے جائیں۔ میت / 48 بیوہ 6 لڑکا 14 لڑکا 14 لڑکی 7 لڑکی 7 کسی کی وفات کے وقت جوشرعی ورثا زندہ موجود ہوں، انہیں ترکہ سے حصہ ملتا ہے بشرطیکہ وہاں کوئی رکاوٹ نہ ہو۔چونکہ مرحوم کی ایک بیٹی اس کی زندگی میں فوت ہوچکی تھی، لہٰذا مرحوم کی جائیدا د سے اس فوت شدہ بیٹی کوکچھ نہیں ملے گا اورنہ ہی اس کی اولاد یا اس کے داماد کااس میں کوئی حق ہے۔ جائیداد میں صرف وہ ورثاء شریک ہوتے ہیں جو متوفیٰ کی وفات کے وقت زندہ موجود ہوں۔[واللہ اعلم ] سوال: میرے بھائی فوت ہوگئے ہیں ،پس ماندگان میں چھ بیٹیاں اورمیں ایک بھائی ہوں ،اس کا صرف ایک مکان ہے، اس کی تقسیم کتاب و سنت کی روشنی میں کیسے ہو گی؟ جواب: قرضہ کی ادا ئیگی اورشرعی حددومیں رہتے ہوئے وصیت کے نفاذ سے مرحوم کی بیٹیاں دوتہائی کی حقدار ہیں۔ارشاد باری تعالیٰ ہے : ’’اگراولاد میں صرف لڑکیاں ہی ہوں اوروہ دوسے زائد ہوں توان کاترکہ سے دوتہائی حصہ ہے ۔‘‘ [۴/النساء :۱۱] بیٹیوں کوان کامقرر ہ حصہ دینے کے بعد جوباقی بچے وہ مرحوم کابھائی عصبہ ہونے کی حیثیت سے لے گا ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاارشاد گرامی ہے: ’’حق داروں کومقرر ہ حصص دینے کے بعد جوباقی بچے وہ میت کے قریبی رشتہ دار کے لیے ہے۔‘‘ [صحیح بخاری ،الفرائض : ۶۷۳۵] سہولت کے پیش نظر مکان کی مالیت کوتین حصوں میں تقسیم کرلیاجائے ،ان میں سے دو حصے چھ بیٹیوں کواورایک حصہ بھائی کو دے دیاجائے۔ صورت مسئولہ اس طرح ہو گی: میت :18/3 چھ بیٹیاں 12/2 ایک بھائی 6/1 ۔ نوٹ : اگرحصہ داروں کے لئے حصص پوری طرح تقسیم نہ ہوں توحصوں کی تعداد کو بڑھا دیا جاتا ہے، جیسا کہ مذکورہ مسئلہ میں تین حصوں کوبڑھا کراٹھارہ کرلیاگیا ہے ان میں سے دو،دو حصے فی بیٹی اورچھ حصے اس کے بھائی کودیئے جائیں ۔ [واللہ اعلم] سوال: ہمارے دفتر میں ایک آدمی حرکت قلب بند ہونے سے فوت ہوگیا ہم نے مندرجہ ذیل رقوم اس کی بیوہ کے اکاؤنٹ میں جمع کرادیں (۱)فیملی پنشن (۲)بیمہ پالیسی کی رقم (۳)جی پی فنڈ (۴)سٹاف کی طرف سے جمع شدہ تعاون مرحوم کے والد کاموقف ہے کہ قرآن کریم میں بیان شدہ ضابطہ میراث کے لحاظ سے ان رقوم میں والدین کابھی حق وراثت بنتا ہے۔ مرحوم کے والد کاموقف کس حدتک درست ہے؟ جواب: بشرط صحت سوال واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ نے میت کے ترکہ میں ضابطۂ وراثت جاری فرمایا ہے اورترکہ سے مراد ہروہ مال ہے جوکوئی شخص چھوڑ کرفوت ہوجائے اوروہ اس کی جائز ملکیت ہو ،خواہ وہ جائیداد منقولہ ہویاغیر منقولہ ،خواہ موت کے وقت وہ اس کے قبضہ میں ہویا ابھی تک اس پرقبضہ نہ ہوسکا ہو۔اسی طرح ہروہ چیزاس کے ترکہ میں داخل سمجھی جائے گی جس کا سبب ملک اس