کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 272
’’عاق نامہ‘‘ کے اشتہارات دیتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے انہیں بڑے خوفناک عذاب کی دھمکی دی ہے۔ ہمارے معاشرے میں کہیں توعورتوں کووراثت سے مستقل طورپرمحروم کردیاجاتا ہے اورکہیں دوسرے بچوں کونظرانداز کرتے ہوئے صرف لڑکے کوہی وراثت کاحق دار ٹھہرا دیاجاتا ہے، یہ سب اللہ تعالیٰ کے وضع کردہ ضابطہ میراث کے خلاف کھلی بغاوت ہے ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’مردوں کے لئے اس مال میں حصہ ہے جووالدین اوررشتہ داروں نے چھوڑاہو اور عورتوں کے لئے بھی اس مال میں حصہ ہے جوماں باپ اوررشتہ داروں نے چھوڑا ہو، خواہ وہ مال تھوڑا یا بہت ہواوریہ حصہ (اللہ کی طرف )سے مقررہے۔ ‘‘ [۴/النساء :۷] اس آیت کریمہ کے پیش نظر کسی وارث کوبلاوجہ شرعی وراثت سے محروم نہیں کیاجاسکتا ہے ۔ماہرین وراثت نے ان وجوہات کوبڑی دلیل سے بیان کیا ہے جووراثت سے محرومی کاباعث ہیں عام طورپراس کی دواقسام ہیں : پہلی قسم میں وہ موانع شامل ہیں جوفی نفسہ وراثت سے محرومی کاباعث بنتے ہیں ان میں غلامی ،قتل ناحق اوراختلاف ملت یعنی کفر وارتدادوغیرہ ہیں ۔ دوسری قسم میں وہ موانع ہیں جوفی نفسہ تورکاوٹ کا باعث نہیں، البتہ بالتبع محرومی کاذریعہ ہوتے ہیں ان میں وارث اور مورث کااشتباہ برسرفہرست ہے، جیسے ایک ساتھ غرق ہونے والے، آگ میں جل کراس دنیا سے رخصت ہونے والے ہیں۔ اگر ان کے درمیان وراثت کارشتہ قائم ہوتوایک دوسرے کے وارث نہیں ہوں گے بشرطیکہ پتہ نہ چل سکے کہ ان میں پہلے اوربعد کون فوت ہوا ہے۔ احادیث میں بھی اس کی وضاحت ملتی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاارشاد گرامی ہے: ’’جو کسی کی وراثت کوختم کرتا ہے جس کواللہ تعالیٰ اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر کیا ہے، اللہ تعالیٰ جنت میں اس کی وراثت کوختم کردیں گے ۔‘‘ [شعب الایمان للبیہقی: ۱۴/۱۱۵] اس طرح حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’جواپنے وارث کوحصہ دینے سے راہ فرار اختیار کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کاحصہ جنت سے ختم کردیں گے ۔‘‘ [ابن ماجہ، کتاب الوصایا: ۲۷۰۳] اگرچہ مؤخر الذکر روایت میں ایک راوی زید العمی ضعیف ہے، تاہم اس قسم کی روایت بطور تائید پیش کی جاسکتی ہے۔ مختصریہ ہے کہ اگربیٹا نافرمان ہے تووہ اپنی سزا اللہ تعالیٰ کے ہاں پائے گا۔ لیکن والد کویہ حق نہیں ہے کہ وہ اسے جائیداد سے محروم کردے۔ بعض لوگ محض ڈرانے کے لئے ایساکرتے ہیں لیکن ایسا کرنا بھی کئی ایک قباحتوں کاپیش خیمہ ہوسکتا ہے ۔لہٰذا رائج الوقت ’’عاق نامہ ‘‘ کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہے ۔ [واللہ اعلم ] سوال: ہمارے والدصاحب فوت ہوچکے ہیں جوتھوڑی سی زرعی اراضی چھوڑ گئے ہیں پسماندگان میں سے ہماری والدہ،ہم دوبھائی اوردوبہنیں زندہ ہیں تقسیم جائیداد کیسے ہو گی، نیز ہماری ایک بہن والد مرحوم کی زندگی میں فوت ہوگئی تھی ۔کیااسے بھی ہمارے والد کی جائیداد سے حصہ ملے گا یانہیں؟ جواب: قرآن کریم کی وضاحت کے مطابق صورت مسئولہ میں بیوہ کوآٹھواں حصہ اورباقی جائیداد بہن بھائی اس طرح تقسیم کریں کہ بھائی کوایک بہن سے دوگناحصہ ملے ۔سہولت کے پیش نظر منقولہ اورغیرمنقولہ جائیداد کے 48حصے کرلئے جائیں۔ ان میں سے آٹھواں حصہ، یعنی 6حصے مرحوم کی بیوہ کوملیں گے اورباقی 42حصوں میں سے ہر ایک بھائی 14,14اورہرایک بہن کو 7