کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 271
527272.72روپے ایک لڑکے کودیئے جائیں ،ممکن ہے کہ ایسا کرنے سے آخرت میں مرحوم کے لئے تلافی کی صورت پیداہوجائے کیونکہ ظالمانہ تقسیم کی وجہ سے اخروی بازپرس کااندیشہ ہے۔ اس لئے بچوں کو چاہیے کہ وہ اپنی دنیابنانے کی بجائے اپنے والد کی آخرت سنوارنے کی کوشش کریں ۔ [واللہ اعلم] سوال: میں اپنے بچوں میں اندیشہ فساد کے پیش نظر اپنی جائیداد کوخود تقسیم کردیناچاہتاہوں،کیاشرعاًمجھے ایساکرنے کاحق ہے اگرایسا کرسکتا ہوں تویہ تقسیم کس شرح سے ہو گی؟ جواب: اللہ تعالیٰ نے انسان کوشریعت کے دائرہ میں رہتے ہوئے خودمختار بنایا ہے ۔جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کوجیسے چاہے استعمال کرے ،مال وجائیداد بھی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے۔ اس میں بھی اسے اپنی مرضی سے جائز تصرف کاحق ہے۔ اس بنا پر اپنی زندگی میں اپنے مال کواپنی اولاد میں تقسیم کرسکتا ہے اورجتنا چاہے اپنے لئے بھی رکھ سکتا ہے، چنانچہ حدیث میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’ہر انسان اپنے مال میں تصرف کرنے کازیادہ حق رکھتا ہے۔ وہ اسے جہاں چاہے جیسے چاہے استعمال کرسکتا ہے۔‘‘ [بیہقی ،ص: ۷۸،ج ۶] لیکن زندگی میں یہ تقسیم ضابطہ میراث کے مطابق نہیں ہوگی کیونکہ وراثت غیر اختیاری طورپر حق ملکیت اس کے ورثاء کی طرف منتقل ہونے کانام ہے جبکہ یہ تقسیم اپنی زندگی اپنے اختیار اورارادہ سے کی جارہی ہے ۔ہاں یہ عطیہ کی ایک شکل ہے جس میں لڑکے اورلڑکی کالحاظ کئے بغیر اپنی اولاد میں مساویا نہ طورپرمال تقسیم کرناہوتا ہے ۔امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں ایک باب یوں قائم کیا ہے ’’باب الہبۃ للولد‘‘ یعنی اولاد کوہبہ کرنے کا بیان ،امام بخاری رحمہ اللہ اس کے تحت لکھتے ہیں: اگرباپ اپنی اولاد میں کسی کوکچھ دیتا ہے تواسے جائز قرارنہیں دیاجائے گا تاآنکہ وہ عدل و انصاف سے کام لیتے ہوئے دوسروں کوبھی اس کے برابر حصہ دے ۔ اس کے بعد امام بخاری رحمہ اللہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک فرمان بطور دلیل پیش کیا ہے۔ ’’عطیہ دیتے وقت اپنی اولاد کے درمیان عدل و انصاف سے کام لیاکرو۔‘‘ [صحیح بخاری ،الھبہ۱۲ ] اس سلسلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاحسب ذیل فرمان ایک فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے۔ ’’عطیہ دیتے وقت اپنی اولاد کے درمیان برابری کیاکرو۔ اگر (کسی کمزوری کے پیش نظر) میں کسی کوزیادہ چاہتا تو عورتیں اس بات کی زیادہ حقدار ہیں کہ انہیں دوسروں سے زیادہ دیاجائے۔‘‘ [بیہقی، ص: ۱۷۷،ج ۶] ارشادنبوی کے پیش نظر زندگی میں اپنی جائیداد تقسیم کرتے وقت مساوات کوسامنے رکھناہوگا۔ ہاں، اگر اولاد میں کوئی معذور، اپاہج یامفلوک الحال ہے توباپ کوحق ہے کہ اسے دوسروں سے زیادہ دے، تاہم اس کے لئے معقول وجہ کا ہونا ضروری ہے۔ [واللہ اعلم] سوال: اخبارات میں جوعاق نامہ دیاجاتا ہے اس کی شرعی حیثیت کیا ہے کیا والد کویہ حق ہے کہ وہ اپنے نافرمان بیٹے کو وراثت سے محروم کر سکے؟ جواب: انسان کے مرنے کے بعد اس کی جائیداد کوتقسیم کرنے کاطریقہ کارخود اللہ تعالیٰ کاوضع کردہ ہے ۔اس میں کسی کو ترمیم واضافہ کاحق نہیں ہے جوحضرات قانون وراثت کو پامال کرتے ہوئے آئے دن اخبارات میں اپنی اولاد میں سے کسی کے متعلق