کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 268
ہے۔ دوسری بیوی فوت ہوچکی ہے اب یہ آدمی فوت ہوجاتاہے، اس کی جائیداد پس ماندگان میں کیسے تقسیم ہوگی؟ جواب: واضح رہے کہ صورت مسئولہ میں متوفی کے ورثاء بیوہ میں چھ لڑکیاں اورپانچ لڑکے ہیں۔ قرآن مجیدکے بیان کردہ ضابطۂ وراثت کے مطابق اولاد کی موجودگی میں بیوہ کومیت کی جائیداد سے آٹھواں حصہ ملتا ہے اورباقی متوفی کی اولاد میں اس طرح تقسیم کیاجائے کہ ایک لڑکے کولڑکی کے مقابلہ میں دوگناحصہ دیا جائے گا ۔سہولت کے پیش نظر مرحوم کی میت کی جائیداد کے 144حصے کئے جائیں، پھرآٹھواں حصہ، یعنی 18حصص بیوہ کے لئے ،84حصص لڑکوں کے لئے جو14حصص فی لڑکا کے حساب سے تقسیم ہوں گے۔ اس طرح 42حصص لڑکیوں کے لئے جوسات حصہ فی لڑکی کے حساب سے تقسیم دیے جائیں۔ سوال: میرے شوہر نے اپنی وفات سے دس بارہ سال پہلے ایک شراکت نامہ تحریر کیاتھا، جس کی رو سے، یعنی مرحوم کی بیوہ ، تین بیٹیاں اورایک لے پالک بیٹا ’’واحد اینڈ کمپنی‘‘ نامی فرم میں شریک کارہیں اورہم میں سے ہرایک مقرر ہ فراہم کردہ سرمایہ کے مطابق نفع اورنقصان کے مالک ہیں اس کاروبار میں مرحوم شریک نہیں ہوئے ،البتہ دکان ان کی تھی ،جس میں کاروبار شروع کیاگیا ۔ مرحوم کے تین بھائی اور ایک بہن بھی بقید حیات ہے۔ مرحوم کی دکان کے علاوہ جوجائیداد تھی وہ شرع کے مطابق تقسیم ہوچکی ہے۔ اب دریافت طلب امریہ ہے کہ ان کی وفات سے شراکت نامہ میں توکوئی ردوبدل نہیں کرناپڑے گا، نیز دکان سے بھائیوں اوربہن کوبھی حصہ ملے گا یا اس کے وہی حق دار ہیں جنہیں وہ اپنی زندگی میں شراکت نامہ لکھ کردے گئے ہیں؟ جواب: بشرط صحت سوال واضح ہوکہ کاروبار کے لئے جوشراکت نامہ تحریرکیاگیا ہے۔ اس میں متوفی شامل نہیں ہے، لہٰذا اس کی وفات سے شراکت نامہ پرکوئی اثر نہیں پڑے گا ۔کاروبار حسب معمول جاری رہے گا ۔اس کے نفع ونقصان میں صرف شرکاء ہی شامل ہوں گے، متوفی کے بھائی یابہن اس میں قطعی طورپر شریک نہیں ہوں گے،کیونکہ شراکت نامہ میں انہیں شامل نہیں کیاگیا ہے۔ البتہ دکان کامعاملہ کاروبار سے ذراالگ حیثیت رکھتا ہے ،اگرکمپنی نے دکان کوخرید لیا ہے اوروہ مرحوم کے نام نہیں ہے اگرتھی تواسی کمپنی کے نام ہبہ کردی تھی تواس صورت میں بھائیوں اوربہن کواس سے کوئی تعلق نہیں ہے اورنہ ہی انہیں اس سے کچھ حصہ ملے گا کیونکہ مرحوم کی وفات کے وقت وہ دکان مرحوم کی ملکیت تھی اورکمپنی اس میں صرف کاروبار کرتی تھی اورمرحوم کی زندگی میں دکان خریدکرکمپنی کے نام حق ملکیت منقسم نہیں ہوا تواس کی حقیقت جداگانہ ہے ۔مندرجہ ذیل تفصیل کے مطابق اسے تقسیم کیاجائے ۔بیوہ کو1/8،بیٹیوں کو2/3اورباقی 5/24بہن بھائیوں کا ہے۔ وہ اس طرح تقسیم کیاجائے کہ ایک بھائی کوبہن سے دوگنا ہے ۔سہولت کے پیش نظر اسے 168حصوں میں تقسیم کردیاجائے ۔بیوہ کو 21،بیٹوں کو 112اوربہن بھائیوں کو35 حصے دیے جائیں ،پھربہن