کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 264
کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، پھرنفع کے لئے شریعت نے کوئی حدمقرر نہیں کی ہے اسے فروخت کنندہ اورخریدارکی صوابدید پر چھوڑ دیا گیا ہے کہ وہ باہمی رضامندی سے معاملہ طے کریں ۔بہرحال صورت مسئولہ میں سودوغیر ہ کاکوئی اندیشہ نہیں ہے۔ [واللہ اعلم ] سوال: نئے نوٹ اضافی قیمت پر فروخت کرنا شرعاًکیاحیثیت رکھتا ہے؟ جواب: نئے پرانے نوٹوں کی مالیت میں کوئی فرق نہیں ہوتا ،ایک ہی جنس کاتبادلہ برابربرابر توہوسکتا ہے بشرطیکہ نقد بہ نقدہو،ان میں کمی بیشی کرنا سود ہے، جیسا کہ حدیث میں اس کی صراحت ہے۔ [صحیح بخاری، البیوع،۴۰۶۳] البتہ کرنسی تبدیل ہو جائے تو کمی و بیشی سے فروحت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔صورت مسئولہ میں ایک ملک کی کرنسی کو کمی بیشی سے فروخت کیا جاتا ہے اس کے سود ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہے۔ اس سلسلہ میں جوبہانے پیش کئے جاتے ہیں ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے ۔ [واللہ اعلم ] سوال: اگرغیرمسلم اپنے تہوارکے موقع پر کوئی چیز بھیجیں توہم اسے کھاسکتے ہیں یا نہیں، حالانکہ وہ چیز مارکیٹ سے خرید کردہ ہوصرف تہوار کی وجہ سے ہم تک پہنچی ہو؟ جواب: شرعی طورپر مسلمانوں کوحکم دیا گیا ہے کہ وہ یہودونصاریٰ اورہنود ومجوس کی مخالفت کریں ۔اس مخالفت کاتقاضا ہے کہ ہم کسی بھی پہلو سے ان کے تہواروں میں شریک نہ ہوں۔ان کے تہوار کے موقع پر ان کے تحائف قبول کرناان کی خوشی میں شرکت کرنا ہے جس کی شرعاًاجازت نہیں ہے، بلکہ ان کی مخالفت کرناسنت نبوی ہے۔ کتنے ہی معاملات ہیں جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی مخالفت کی ہے ۔اگرہم ان کے تہوار کے موقع پر بھیجی ہوئی چیزیں قبول کریں اوراسے استعمال کریں تویہ مخالفت نہیں ہے، بلکہ ان کی حوصلہ افزائی اورہمنوائی ہے۔ حدیث میں ہے: ’’جس قوم کی مشابہت اختیارکی ہے وہ انہی سے ہے۔‘‘ [ابوداؤد] اس بنا پراسلامی غیرت کاتقاضا ہے کہ ہم غیرمسلم لوگوں کے تہواروں پران کے تحائف قبول نہ کریں، اگرچہ وہ مارکیٹ سے خریدکر ہی کیوں نہ بھیجے گئے ہوں ۔یہودونصاریٰ کی ہر رسم ہماری تہذیب کے لیے زہر قاتل ہے۔ اس سے اجتناب کرنا ہمارامذہبی فریضہ ہے۔ صورت مسئولہ میں اگرکوئی غیرمسلم اپنے تہوارکے موقع پر ہمیں کوئی چیز بھیجتا ہے توہمیں قبول نہیں کرنی چاہیے اور نہ ہی اسے کسی استعمال میں لانا چاہیے۔تہوار کے علاوہ تبادلہ تحائف میں کوئی حرج نہیں جبکہ مقصود غیرمسلم کواسلام کے قریب لانا ہو۔ [واللہ اعلم ]