کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 261
سودخور یہودیوں کی نمایندگی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جس سود کو اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے وہ ذاتی قرضے ہیں۔ جن کی شرح سود بہت ظالمانہ ہوتی تھی اورجوتجارتی سودہے وہ حرام نہیں کیونکہ اس وقت تجارتی قرض لینے دینے کا رواج نہیں تھا حالانکہ نزول قرآن کے وقت تجارتی سود موجود تھا اور سود کی حرمت سے قبل حضرت عباس رضی اللہ عنہ تجارتی سود کا کاروبا رکرتے تھے ۔اس کے علاوہ قرآن کریم میں لفظ ’’ربوا‘‘ مطلق ہے جوذاتی اورتجارتی دونوں اقسام پرمشتمل ہے۔ اس لئے تجارتی سود کوحرمت سے خارج نہیں کیا جا سکتا۔ اس قسم کی حرام کمائی سے اللہ کی راہ میں مدارس وغیر ہ کاتعاون کرنابھی حرام ہے۔ کیونکہ فرمان نبوی ہے: ’’اللہ تعالیٰ صرف پاکیزہ کمائی سے ہی صدقہ قبول کرتا ہے ۔‘‘ [صحیح بخاری ،الزکوٰۃ :۱۴۱۰] ایک دوسری روایت میں اس کی وضاحت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’اے لوگو!اللہ پاک ہے اوروہ صرف پاک مال قبول کرتا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کوبھی اسی بات کاحکم دیا ہے جس کااس نے اپنے رسولوں کوحکم دیا، چنانچہ فرمایا: ’’اے پیغمبر! پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو۔‘‘ اور فرمایا: ’’اے ایمان والو!وہ پاکیزہ چیزیں کھاؤ جوہم نے تمہیں دی ہیں۔‘‘ [ترمذی، التفسیر: ۲۹۸۹] سودی کاروبار کرنے والے حضرات یہ خیال کرتے ہیں کہ اس حرام کمائی سے تھوڑا بہت اللہ کی راہ میں دینا ،اس سے وہ گناہ معاف ہوجاتا ہے جس کا وہ سودی کاروبار کی شکل میں ارتکاب کرتے ہیں۔ اہل مدارس کواللہ پرتوکل کرتے ہوئے ان حضرات کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے اوران سے صدقہ ہرگز قبول نہ کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ اس غیرت وحمیت کے بدلے بہت سے ایسے راستے کھول دے گا جن کااہل مدارس کووہم و گمان بھی نہیں ہوگا ۔تحدیث نعمت کے طورپر عرض کیاہے کہ راقم الحروف نے اپنے ادارہ کے لئے ایسے کاروباری حضرات کا بائیکاٹ کیا ہے جو سود لیتے دیتے ہیں۔ اللہ کا دین ایسی گندگی اور نحوست کا قطعاً محتاج نہیں ہے۔ اس بائیکاٹ کی برکت سے ہمیں ادارے کے سلسلہ میں کبھی مالی پریشانی کاسامنانہیں کرنا پڑا ۔صورت مسئولہ میں بنک سے سودی شرح پر قرضہ لے کرکاروبار کرنے والے کامالی تعاون قبول نہیں کرناچاہیے اورنہ ہی ان کی دعوت کوقبول کرناچاہیے ۔حدیث میں ہے: ’’جو چیز تجھے شک میں ڈالے اسے چھوڑ کراس چیز کواختیار کیاجائے جوشک میں نہیں ڈالتی۔ ‘‘ [مسند امام احمد، ص: ۱۵۳،ج ۳] البتہ اسے وعظ وتبلیغ کے ذریعے اس کاروبار کی سنگینی سے ضرور آگاہ کرتے رہناچاہیے ۔ سوال: شریعت میں شرح منافع کاکوئی تعیّن ہے تواس کی نشاند ہی کریں ہمارامیڈیکل سٹور ہے بعض ادویات پر قیمت فروخت 28روپے لکھی ہوتی ہے جبکہ ہمیں کمپنی کی طرف سے تقریباً13روپے میں ملتی ہے اس طرح ہمیں 15روپے نفع ہوتا ہے اتنا منافع لینے کی شرعاًاجازت ہے یانہیں ؟کتاب وسنت کی روشنی میں وضاحت فرمائیں۔ جواب: شریعت میں شرح منافع کاکوئی تعین نہیں ہے جائزتجارت میں جس قدر چاہے نفع کمالیاجائے۔ اس پرکوئی پابندی نہیں ہے یہ غلط طورپر مشہور ہے کہ شرح منافع آٹے میں نمک کے برابرہوناچاہیے۔البتہ کسی کی مجبوری سے ناجائز فائدہ نہ اٹھایا جائے اور نہ ہی خریدوفروخت کرتے وقت جھوٹ بولاجائے بلکہ ایک دوسرے کے لئے ہمدردی اور ایثار کے جذبات ہونے چاہییں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے قیمت خرید پر100فیصدمنافع کمایا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف اس شرح کوبرقرار رکھا بلکہ ان کے لئے خیروبرکت کی دعافرمائی ۔چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عروہ بارقی رضی اللہ عنہ کوایک دینار دیا