کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 260
پربڑی واضح دلیل ہے کیونکہ آیت سے واضح ہوتا ہے کہ سوال کرنے والے خود اپنے اموال کے مالک تھے اوراپنی مرضی سے ہی ان اموال میں تصرف کرنے کاحق رکھتے تھے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جہاد کے موقع پر یہ سوال کیاتھا جبکہ اس کے لئے مصارف کی شدید ضرورت تھی، ایسے حالات میں مسلمانوں کی تربیت کی گئی کہ وہ اپنے اختیار وارادہ سے اگر سارامال دینا چاہیں تودے سکتے ہیں ،لیکن اس کے برعکس اگرکوئی سارامال نہیں دے سکتا تواس پرکوئی پابندی نہیں لگائی گئی جبکہ اشتراکیت بالکل اس کے برعکس ہے جو حالات جنگ کے بغیر عام حالات میں بھی لوگوں کو حق ملکیت سے محروم کردیتا ہے، لہٰذا اس آیت کریمہ میں نظریہ اشتراکیت کشید کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔ حضرت ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ سورۂ توبہ کی ایک آیت کے پیش نظر یہ موقف رکھتے تھے کہ ضروریات سے فالتوسرمایہ رکھنا شرعاًدرست نہیں ہے بلکہ وہ کنز کے حکم میں ہے جس کے متعلق قرآن میں سخت وعید آئی ہے۔ دراصل حضرت ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث سنتے جس میں سخت حکم ہوتا تھا تواسے اپنی قوم کوپہنچادیتے ۔اس کے متعلق کچھ نرمی آجاتی لیکن حضرت ابو ذرغفاری رضی اللہ عنہ پہلے حکم پر ہی عمل پیرا رہتے ،جیسا کہ مال جمع کرنے کے متعلق ان کاموقف ہے ۔اس سلسلہ میں جمہور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس موقف سے اتفاق نہیں کیا۔ [فتح الباری ،ص: ۳۴۵،ج ۳ ] چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک ا عرابی نے سوال کیا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ’’جولوگ سونے اورچاندی کوجمع کرتے ہیں اوراسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے، انہیں المناک عذاب کی خبردیں۔‘‘ [۹/توبہ: ۳۴] اس قرآنی آیت کا کیا مطلب ہے؟ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے جواب دیا کہ جس نے مال جمع کیا اوراس کی زکوٰۃ ادا نہ کی اس کے لئے ہلاکت ہے۔ آیت میں مذکورہ وعید زکوٰۃ کے نازل ہونے سے پہلے تھی ،جب زکوٰۃ کاحکم نازل ہوا تواللہ تعالیٰ نے اسے اموال کی پاکیزگی کاذریعہ بنادیا۔ [صحیح بخاری :۱۴۰۴] بہرحال قرانی آیت اورحضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کے موقف سے اشتراکی نظریہ کی قطعاًتائید نہیں ہوتی ہے ۔ [واللہ اعلم ] سوال: ایک شخص بنک سے ایک خاص شرح سودپر قرض لے کرکاروبارکرتا ہے، پھروہ اس قسم کی کمائی سے مدارس سے تعاون کرتا ہے کیاایسے شخص کاتعاون لینااور اس کے گھر سے کھاناپینا جائز ہے؟ جواب: بنک سے سود پرقرض لے کر کاروبار کرناایک سودی کاروبار ہے۔ سودی قرضے دوطرح ہوتے ہیں: 1۔ ذاتی قرضے، یعنی وہ قرضے جوکوئی شخص اپنی ذاتی ضرورت کے لئے کسی مہاجن یابنک سے لیتا ہے ۔ 2۔ تجارتی قرضے، یعنی وہ قرضے جوتاجر یا صنعت کار اپنی کاروباری اغراض کے لئے سودپر لیتا ہے ۔ شریعت میں دونوں قسم کے قرضوں کوحرام قرار دیا ہے کیونکہ ان پرسود دیاجاتا ہے قرآن کریم نے ذاتی قرض کے سلسلہ میں فرمایا ہے کہ ’’اللہ سود کومٹاتا ہے اورصدقات کی پرورش کرتا ہے‘‘ ۔ [۲/البقرہ :۲۷۶] گویااللہ تعالیٰ نے سود کے خاتمہ کے لئے ذاتی قرضوں کاحل ’’صدقات ‘‘تجویز فرمایا ہے اورتجارتی قرض کے متعلق ارشادباری تعالیٰ ہے کہ’’ اللہ نے تجارت کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام قراردیا ہے۔‘‘ گویا اللہ تعالیٰ نے تجارتی قرضوں سے نجات کے لئے شراکت اورمضاربت کی راہ دکھائی ہے۔ جوحلال اور جائز ہے۔ یہ وضاحت، اس لئے ضروری تھی کہ آج بہت سے مسلمان