کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 259
اس مقام پریہ وضاحت کرنابھی ضروری ہے کہ اگر شراکت داردشمنِ اسلام ہے اوروہ تجارت سے حاصل ہونے والے منافع کواسلام کے خلاف استعمال کرتا ہو، جیسا کہ قادیانی حضرات کرتے ہیں توایسے حالات میں کسی مسلمان کاہی انتخاب کرناچاہیے۔ خواہ وہ غیر معیاری ہی کیوں نہ ہو ۔اس سلسلہ میں سورۃ الممتحنہ ایک فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہے، اس میں کافر،دشمن اورکافرغیر دشمن کے کردار کوبڑی وضاحت سے بیان کیاگیا ہے۔ کافرغیر دشمن کے متعلق ارشاد باری تعالیٰ ہے ’’اللہ تعالیٰ تمہیں ان سے منع نہیں کرتا جونہ تم سے دین کے معاملات میں لڑے اورنہ تمہیں گھروں سے نکالے اس بات سے کہ تم ان سے بھلائی کرواوران سے انصاف کرو۔ ‘‘ [۶۵/الممتحنہ :۸] کا فردشمن کے متعلق فرمایا: ’’اللہ تمہیں ان سے منع کرتا ہے جنہوں نے دین کے بارے میں تم سے لڑائی کی اورتمہیں گھروں سے نکالا اور تمہارے اخراج پرایک دوسرے کی مدد کی ۔اس بات سے کہ تم انہیں دوست بناؤ۔‘‘ [۶۵/الممتحنہ : ۹] گویا قطع موالات اورمعاملات کا اصل سبب ان کی اسلام دشمنی ہوسکتی ہے نہ کہ کفرو شرک، اس بنا پر ہمارارجحان یہ ہے کہ ایک بندہ مسلم کوکاروبار میں شراکت کے لئے اپنے جیسے مسلمان کاہی انتخاب کرناچاہیے ۔اگرمسلمان نہ مل سکیں یامل سکیں لیکن انتہائی بددیانت اورغیرمعیاری توایسے حالات میں کافر کے ساتھ کاروبار کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ اگروہ کافرخلاف اسلام سازشوں میں ملوث ہے یااپنے منافع کواسلام یااہل اسلام کے خلاف استعمال کرتا ہے توایسے حالات میں مسلمانوں کوترجیح دینا چاہیے، خواہ وہ غیرمعیاری ہی کیوں نہ ہو۔ [واللہ اعلم] سوال: ہمارے ہاں ایک پروفیسرنے نظام اشتراکیت کی تائید میں سورۂ بقرہ کی آیت کاحوالہ دیا کہ ضروریات سے زائد تمام مال حکومت کی ملکیت ہے اس سلسلہ میں انہوں نے حضرت ابوذرغفار ی رضی اللہ عنہ کے موقف کابھی حوالہ دیا ۔اس کے متعلق قرآن و حدیث کی روشنی میں وضاحت فرمائیں؟ جواب: نظام اشتراکیت کے سلسلہ میں جس آیت کاحوالہ دیا ہے وہ حسب ذیل ہے: ’’لوگ آپ سے سوال کرتے ہیں کہ اللہ کی راہ میں خرچ کریں، ان سے کہہ دیں کہ جوکچھ بھی ضرورت سے زائد ہو ، وہ سب اللہ کی راہ میں خرچ کرو۔‘‘ [۲/البقرہ: ۲۱۹] لیکن یہ آیت کریمہ نفلی صدقات کی آخری حدہے اورصدقہ کی کم ازکم حدفرضی صدقہ زکوٰۃ ہے جوکفر اوراسلام کی سرحد پر واقع ہے، اس کامطلب یہ ہے کہ اگرانسان صدقہ کی کم ازکم حد کی ادا ئیگی نہ کرے تووہ دائرۂ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ایسے ہی لوگوں کے خلاف جہاد کیاتھا ۔ان دونوں حدوں کے درمیان ایک وسیع میدان ہے اوراہل خیر جتنی چاہیں نیکیاں کماسکتے ہیں ۔لیکن افسوس کہ ہمارے ہاں اشتراکی ذہن رکھنے والے حضرات نے قرآنی آیات میں ’’العفو‘‘کے مفہوم کوبہت غلط معنوں میں استعمال کیا ہے، اشتراکی نظریہ کے مطابق ہرچیز کی مالک حکومت ہوتی ہے اوراس قسم کی حکومت میں انفرادی ملکیت کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ۔اب سوال یہ پیداہوتا ہے کہ اگر کسی کی ذاتی ملکیت ہی نہ ہو تووہ پس انداز کیا کرے گا اورخرچ کیاکرے گا اور انفاق کے متعلق کیاپوچھے گا؟ گویا جس آیت سے اشتراکی نظر یہ کشید کرنے کی کوشش کی جاتی ہے وہی آیت اس نظریہ کی تردید