کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 258
سونے پرسہاگہ ہے۔ ایک تجارت پیشہ مسلمان کوچاہیے کہ وہ ترجیحی بنیادوں پرکاروبار میں شرکت کے لئے کسی ایسے شخص کاانتخاب کرے جودین اسلام کے ساتھ ساتھ مذکورہ بالاصفات کابھی حامل ہو،لیکن اگرکوئی نام نہاد مسلمان فریبی ،دغاباز،خیانت پیشہ ،سخت گیر اوردوسروں کابدخواہ ہے اوراس کے مقابلہ میں ایک کافر دیانتداری اورصداقت وخیرخواہی کواپنائے ہوئے ہے تواس کا کافر ہونا دوسروں کے لئے شراکت میں رکاوٹ کاباعث نہیں ہوناچاہیے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خودمشرکین کے حق ملکیت کو تسلیم کرتے ہوئے ان سے خریدوفروخت کی ہے، چنانچہ حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے، اچانک پراگندہ بال اورلمبے قدوالا ایک مشرک کچھ بکریاں ہانک کرلایا تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت فرمایا کہ یہ بکریاں برائے فروخت ہیں یابطورعطیہ دینے کے لیے ہیں؟ اس نے کہا کہ یہ بکریاں بیچنے کے لیے ہیں۔ آپ نے اس سے ایک بکری خرید فرمائی۔ [صحیح بخاری ،البیوع :۲۲۱۶] امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث پربایں الفاظ ایک عنوان قائم کیاہے: ’’مشرکین اوراہل حرب سے خرید وفروخت کرنا۔‘‘ اس عنوان اورپیش کردہ حدیث کامقصد یہ ہے کہ کفارومشرکین سے معاشرتی طورپر ان کے حقوق تسلیم کرتے ہوئے معاملات طے کیے جاسکتے ہیں۔ اگر ان سے جنگ کی نوبت آجائے توان کے لئے اسلام کاایک الگ ضابطہ ہے بصورت دیگر ان کاخون اورمال ہمارے لئے اہل اسلام کے خون اورمال کی طرح قابل احترام ہے ۔ان کے کفر وشرک کی وجہ سے وہ قابل گردن زدنی نہیں ہیں۔ اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ کفار سے معاملہ داری کرناجائز ہے مگر ایسا معاملہ درست نہیں جس سے وہ اہل اسلام کے خلاف جنگ کرنے میں مددحاصل کریں، نیز کافر کی خریدوفروخت صحیح اور اسلامی قانون کی روسے انہیں اموال کامالک تسلیم کیاجائے گا۔ [فتح الباری، ص: ۵۱۸،ج ۴] جہاں تک اسلاف کے عمل کاتعلق ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کی موجودگی میں خیبر کی زمین یہود کوبٹائی پردی ۔ [صحیح بخاری ،الاجارۃ:۲۲۸۵] چونکہ مسلمان دیانت دار توتھے لیکن کھیتی باڑی سے ناآشنا تھے، اس لئے یہود سے بٹائی کا معاملہ طے کیا ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اورحضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ہجرت کے موقع پر ایک کافر کے ساتھ راستہ کی راہنمائی کے لئے اجرت پرمعاملہ طے کیاتھا۔ [صحیح بخاری، الاجارۃ : ۲۲۶۳] امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث پربایں طور عنوان قائم کیا ہے: ’’مشرکین کوبوقت ضرورت اجرت پررکھا جاسکتا ہے یاجب کوئی مسلمان مزدور نہ ملے ۔‘‘حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کاروباری طورپر مجھے اُس دور سے بھی واسطہ پڑا ہے کہ مجھے معاملہ کرنے میں کسی چیز کی پروانہ ہوتی ،کیونکہ امانت ودیانت کایہ عالم تھا کہ اگر فریق ثانی مسلمان ہوتا تو اسے اسلام کاقانون حقوق کی ادائیگی پرمحبور کرتا اور اگروہ عیسائی ہوتا تو قانون اوراپنے افسران بالا کے احترام کے پیش نظر وہ میرے ساتھ صحیح معاملہ کرتا اور جبکہ آج حال یہ ہے کہ امانت ودیانت کاخون ہوچکا ہے اورمیں صرف فلاں فلاں سے خرید وفروخت کامعاملہ کرتا ہوں۔ [صحیح بخاری، الرقاق :۶۴۹۷]