کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 256
کوبھی اٹھایاگیا ہے کہ کاروبار بیمہ میں جورقم جمع ہوتی ہے ، اسے کاروبار میں لگایا جاتا ہے، پھراس کے منافع یانقصانات کو سرمایہ لگانے والوں میں تقسیم کردیا جاتا ہے، یعنی یہ مضاربت کی ایک قسم ہے ا س کاروبار کومضاربت قراردینا درج ذیل وجوہات کی بنا پر محل نظر ہے: ٭ مضاربت کی صحت کے لئے ضروری ہے کہ اس میں منافع کی شرح نسبت کی بنیاد پر ہو، مثلاً: ایک آدمی محنت کرتا ہے اور دوسرارقم دیتا ہے تواخراجات کے بعد جومنافع ہوگا وہ ایک خاص شرح کے مطابق تقسیم ہوگا۔ مثلاً: 50% محنت کرنے والا اور50%رقم خرچ کرنے والا اورکوئی شرح مقرر کرلی جاتی ہے لیکن صرف رقم پرمعین منافع عقد مضاربت کے لئے مفسد قراردیا گیا ہے، جیسا کہ بیمہ زندگی میں ہوتا ہے، مثلاً: جمع شدہ رقم پر10%نفع دیا جائے گا، اس لئے دونوں کوایک دوسرے پرقیاس نہیں کیا جاسکتا۔اگرچہ بادیٔ النظر دونوں میں مشابہت پائی جاتی ہے۔ ٭ اگر مضاربت میں نقصان ہوتو اس نقصان کوصرف سرمایہ لگانے والابرداشت کرتا ہے، مضاربت کی محنت توضائع ہوتی ہے، اس کے علاوہ مالی نقصان میں وہ شریک نہیں ہوتا جبکہ بیمہ کے کاروبار میں اس قسم کی کوئی چیز نہیں ہوتی، اس کاروبار میں سرمایہ کار کو ہر صورت منافع ہی ملتا ہے، نقصان کی صورت میں کمپنی ذمہ دار ہوتی ہے۔ ٭ مضاربت میں اگر سرمایہ کارفوت ہوجائے تو ورثاء کو صرف اتنا ہی سرمایہ ملتا ہے جتنااس نے بوقت عقد جمع کرایا تھا جبکہ بیمہ میں ایسا نہیں ہوتا بلکہ بعض صورتوں میں وہ موت کے بعد بڑی رقم کامالک بن جاتا ہے۔ ٭ مضاربت میں سرمایہ کارکوعلم ہوتاہے کہ میری رقم کس قسم کے کاروبار میں صرف ہورہی ہے جبکہ بیمہ میں سرمایہ کارکواس قسم کے معاملات سے بالکل لاتعلق رکھاجاتا ہے۔ ٭ مضاربت میں اگر سرمایہ کار مرجائے تواس کی رقم ورثا ء کوملتی ہے جبکہ بیمہ کے کاروبار میں ایسا نہیں ہوتا بلکہ موت کی صورت میں اس کاحقدار اس کانامزد کردہ ہوتا ہے، شرعی ورثاء اس کے حقدار نہیں ہوتے۔اس میں قانون وراثت کی صریح خلاف ورزی ہے۔ ہماری بیان کردہ وجوہات کی بنا پر بیمہ کاکاروبار مضاربت سے مشابہت نہیں رکھتا۔ بیمہ کی جائز صورتیں: بیمہ عملی طورپر جن صورتوں پرمشتمل ہے، اس کی تین اقسام ہیں: (۱)اجتماعی بیمہ : اسے حکومت یااس کانامزد کردہ کوئی ادارہ چلاتا ہے عام طورپرمحنت مزدوری کرنے والوں کواس میں شامل کیاجاتا ہے۔ مزدوری کرتے وقت جوحوادث یاامراض لاحق ہوتے ہیں جن کی وجہ سے مزدورمعذور ہوجاتے ہیں یاوہ بڑھاپے میں پہنچ کرناکارہ ہوجاتے ہیں توان کابیمہ کیاجاتا ہے۔ اس کے لئے آجر ،اجیر اورحکومت اپنااپنا حصہ ڈالتے ہیں۔ واضح رہے کہ یہ کاروبار نہیں بلکہ ایک خدمت ہے جسے شریعت نے پسند کیاہے اورایسا کرنے کی ترغیب دی ہے ۔ (۲) باہمی بیمہ :یہ کاروبار امدادباہمی کی انجمنیں چلاتی ہیں جوایسے ارکان سے مل کرتشکیل پاتی ہیں جنہیں ایک ہی طرح کے خطرات کاسامنا ہوتا ہے اگرکسی کوحادثہ پیش آجائے توجمع شدہ رقم سے اس کی تلافی کردی جاتی ہے ۔اس کے جائز ہونے میں کوئی شک نہیں ہے ۔