کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 251
کہ ہفتہ وار کل رقم کا 1/4یا1/8 ادا ہو گا، اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ جواب: اس معاملہ کی دوصورتیں ممکن ہیں پہلی یہ کہ جب سوداہورہاتھا تو فروخت کار کے پاس مال موجودتھا اگرچہ اس کے سٹور میں ہو۔ وہ معاملہ طے ہونے کے بعد مال مہیا کردیتاہے اس کے جائز ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ معاملہ طے کرتے وقت اس کے پاس صرف نمونہ ہی تھا اس کے پاس مال موجودنہ تھا اس نے آگے کسی سے خریدکریا خودتیار کرکے مال مہیا کرنا ہے ،یہ صورت ناجائز ہے ۔کیونکہ کسی کوایسی چیز فروخت کرنے کی شرعاًاجازت نہیں ہے جوسودا طے کرتے وقت اس کی ملکیت نہ ہویا وہ اس وقت مہیا کرنے کی پوزیشن میں نہ ہو ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ایسی چیز مت فروخت کروجوتمہارے پاس نہیں ہے۔‘‘یہ حکم امتناعی اس وقت جاری فرمایا جب حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یارسول اللہ! میرے پاس ایک آدمی آتا ہے اوروہ مجھ سے ایسی چیز طلب کرتا ہے جومیرے پاس نہیں،میں سودا طے کرنے کے بعد بازار سے خریدکراسے مہیا کرتا ہوں توآپ نے اس سے منع فرمایا ۔ [ابوداؤد ،البیوع :۳۵۰۳] سوال: بعض اوقات ہم پورا مال نقد بازار ریٹ پرخریدلیتے ہیں لیکن ادھار خریدنے کے لئے یہ ہوتا ہے کہ اگرپندرہ دن کاادھار ہے تو 50پیسے اوراگرایک ماہ کاادھا ر ہے تو ایک روپیہ فی میٹر ریٹ زیادہ ہوتا ہے، مزید مدت بڑھ جائے توریٹ بھی بڑھتا جائے گا؟ جواب: اس کی پہلے وضاحت ہوچکی ہے کہ نقداورادھار ریٹ میں فرق کیاجاسکتا ہے بشرطیکہ ایک بھاؤ طے کرلیا جائے۔ طے ہونے کے بعد مدت کے بڑھنے سے ریٹ کابڑھانا صریح سود ہے، معاملہ کرتے وقت جوریٹ طے ہوا ہے، اس کے مطابق ادائیگی ہونی چاہیے۔ سوال: کوئی کپڑا بازار میں موجود نہیں ہم کسی کارخانہ دار کو اس کانمونہ دے دیتے ہیں ا س سے مال فراہم کرنے کی مدت طے کرلیتے ہیں اورریٹ بھی طے ہوجاتا ہے۔ اس مال کی فراہمی میں نقد ادائیگی پرریٹ علیحدہ اورادھارپرعلیحدہ ہوتا ہے، اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ جواب: شرعی اصطلاح میں اسے بیع سلم کہاجاتا ہے۔ اس میں رقم پیشگی ادا کی جاتی ہے جبکہ مال بعد میں فراہم کرنا ہوتا ہے، اس میں بھاؤ ،وقت فراہمی، جنس، وصف اورپیمائش وغیرہ پہلے سے طے کرناہوگا ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’جوشخص کسی چیز کے متعلق بیع سلم یاسلف کرتا ہے اسے چاہیے کہ متعلقہ چیز کی پیمائش یاوزن اوروقت ادائیگی طے کرے ۔‘‘ [صحیح بخاری ،مسلم :۲۲۴۰] اگر اس مدت میں مال مہیا نہ کیاجائے توتاجروں کے عرف میں اسے جرمانہ توکیاجاسکتا ہے لیکن ریٹ وغیر ہ میں کمی کرنے کادباؤ نہیں ڈالاجاسکتا ،اس میں رقم پیشگی ہی ادا کرناپڑتی ہے ،بصورت دیگر طرفین سے ادھار ہوگا جوشرعاًدرست نہیں ہے۔ سوال: ایک اورصورت جوبازار میں رائج ہے کہ ایک آدمی ایک ماہ کے ادھار پرمال لیتا ہے، پھرمعینہ مدت میں ادائیگی نہیں کرسکتا توفروخت کار تقاضا کرتا ہے کہ جتنی رقم اس کے ذمے بنتی ہے نئی متوقع مدت کے مطابق اتنی رقم کے مال کانیابل بنوا لے، پھر یہ بل زائد رقم کابنایا جاتا ہے، جبکہ حقیقت میں نہ خریدارکوئی مال لیتا ہے اورنہ ہی فروخت کار کوئی مال دیتا ہے جتنی مدت خریدار