کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 249
گئے وہاں سے ایک دینار کے عوض ایک اوربکری خریدی اورحاصل کردہ نفع اورخریدکردہ بکری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے کردی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حاصل کردہ نفع ایک دینار بھی صدقہ کردینے کاحکم فرمایا ۔ [ابوداؤد ،البیوع :۳۳۸۶] ان روایات سے معلوم ہوا کہ شرح منافع کاشریعت نے کوئی تعین نہیں کیاہے ،فریقین باہمی رضامندی سے خریدوفروخت کرنے کے مجاز ہیں ۔ سوال: بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ گاہک آیا اوراس نے ہم سے ریٹ پوچھا اور طے کرکے ہم سے سودا لیا، ہمیں سودے بازی کرتے وقت یہ پتہ نہیں ہوتا کہ گاہک ادھار سودا لے گا یا نقد وہ کبھی نقدرقم دے جاتا ہے اورکبھی ادھار پرمال لے جاتا ہے، کیا اس طرح سودا کرنے میں کوئی قباحت تونہیں ہے؟ جواب: اس سودے بازی میں شرعاًکوئی قباحت نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نقد قیمت اداکرکے چیزیں خریدی ہیں اورادھار پر بھی اشیاء صرف لی ہیں۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے ایک اونٹ خریدااوراس کی قیمت نقداداکردی۔ [صحیح بخاری، البیوع :۲۷۱۸] نیزرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی سے ادھار رقم کی ادائیگی پرکچھ جوخریدے اوربطور اعتماد اس کے پاس اپنی ذرہ گروی رکھ دی۔ [صحیح بخاری، الاستقراض: ۲۳۸۶] اس لئے نقد وادھار خریدوفروخت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ سوال: ہم سے گاہک نے مال دیکھا اورریٹ طے کیا ،ہمیں پتہ ہے کہ یہ گاہک ادھار رقم کی ادائیگی پرمال خریدے گا، اس بنا پر ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ادھار لینے والے گاہک سے عام گاہک کی نسبت زیادہ نفع کمایا جائے، کیاایسا کرناشرعاًجائز ہے؟ جواب: ایسا کرنے میں شرعاًکوئی حرج نہیں ہے کیونکہ فروخت کار کوشریعت نے یہ اختیار دیا ہے کہ اپنی چیز کی جوچاہے قیمت لگائے، یہی وجہ ہے کہ کسی چیز کابھاؤ متعین کردینا شرعاً جائز نہیں ہے کیونکہ ایسا کرنے سے فروخت کار کی حق تلفی ہوتی ہے۔ ایک دفعہ اہل مدینہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ آپ اشیاء کے بھاؤ متعین کردیں توآپ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ ہی ان اشیاء کاخالق اوران کے اتارچڑھاؤ کامالک ہے، نیزوہ تمام مخلوق کارازق بھی ہے، میں یہ نہیں چاہتا کہ قیامت کے دن میرے ذمے کسی کاکوئی حق ہو ۔‘‘ [مسند امام احمد :۳/۱۵۶] اس حدیث کے پیش نظر اشیاء کی قیمتیں توقیفی نہیں کہ ان میں کمی بیشی نہ ہوسکتی ہو۔یہی وجہ ہے کہ شریعت نے ریٹ طے کرنے کااختیار فروخت کار کودیاہے، چنانچہ امام بخاری رحمہ اللہ نے ایک عنوان بایں الفاظ ذکر کیا ہے: ’’چیز کامالک بھاؤ لگانے کازیادہ حق دارہے ‘‘پھرآپ نے اس حدیث کاحوالہ دیا ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنونجار کوکہاتھا کہ اس احاطہ کابھاؤ لگاؤ جس میں کھنڈرات اورکھجوریں وغیرہ تھیں اورآپ مسجد تعمیر کرنا چاہتے تھے ۔ [صحیح بخاری، البیوع :۲۱۰۶] پھرنقد اورادھار کی قیمت کی مالیت میں نمایاں فرق ہے، شریعت نے اس فرق کوبرقرار رکھا ہے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے فرمایا تھا کہ وہ ایک لشکر ترتیب دیں اوراس کے لئے لوگوں سے حاضر اونٹ اس شرط پرخرید لیں کہ