کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 246
جو مسجد سے نکلے بغیر پوری نہیں ہوسکتی توایسے حالات میں مسجد سے نکلنا جائز ہے، مثلا ً: ٭ مسجد میں نہانے یاقضائے حاجت کابندوبست نہیں ہے یامسجد میں پانی وغیر ہ کانظام خراب ہوچکا ہے، ایسے حالات میں وہ گھر جاکر اپنی ضرورت پوری کرسکتا ہے ۔ ٭ کھاناوغیر ہ لانے والا کوئی نہیں ہے توگھر جاکر کھانا وغیر ہ کھاسکتا ہے لیکن لازم ہے کہ ضرورت پوراہوتے ہی مسجد میں واپس آ جائے۔ ٭ ایک دفعہ دوران اعتکاف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کے لئے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا تشریف لائیں تو آپ انہیں گھر چھوڑنے گئے کیونکہ رات کافی گزرچکی تھی۔ [صحیح بخاری ،الاعتکاف :۲۰۳۵] بیمار کی تیمارداری کرنایاجنازہ میں شریک ہونا ایسی ضروریات سے نہیں ہے ،لہٰذا معتکف کسی کی تیمارداری یا جنازہ میں شریک نہیں ہو سکتا، چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ اعتکاف کرنے والے کے لئے سنت یہ ہے کہ وہ کسی مریض کی تیمارداری کرے اور نہ ہی کسی کاجنازہ پڑھے۔ [ابو داؤد، الصوم: ۲۴۷۳] ہاں، اگرمسجد میں جنازہ آجائے توشریک ہونے میں کوئی حرج نہیں ہے، اسی طرح اگر کوئی نمازی مسجد میں آکر بیمار ہوگیا ہے تومسجد میں اس کی تیمارداری کی جاسکتی ہے، مسجد سے باہر نکل کریہ کام کرنے درست نہیں ہیں ۔ [واللہ اعلم ] سوال: ایک آدمی رمضان کے روزے نہیں رکھ سکتا وہ کیا کرے ؟ جواب: اگرکوئی بیماری یابڑھاپے کی وجہ سے روزے نہیں رکھ سکتا اگرآیندہ تندرست ہونے کی امید نہ ہو توقضاکی بجائے وہ فدیہ اد اکرے ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ ’’اورجولوگ روزہ کی طاقت نہیں رکھتے وہ فدیہ کے طورپر ایک مسکین کوکھانا کھلائیں۔‘‘ [۲/البقرہ :۱۸۴] اگر کوئی اتنا بوڑھا ہو گیا ہوکہ روزہ رکھنے کی ہمت نہیں رہی تو وہ بھی فدیہ دے، جیسا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فتویٰ ہے فرماتے ہیں کہ بہت بوڑھے کے لئے رخصت ہے کہ وہ خود رکھنے کے بجائے ہر دن کسی ایک مسکین کو دو وقت کا کھانا دے دے اور اس پر روزہ کی قضا نہیں ہے۔ [مستدرک حاکم، ۴۴،ج۱] سوال: میرادوست سعودیہ میں ایک روزہ رکھ کریکم رمضان کوپاکستان آیا اب وہ مسلسل روزہ رکھتارہے توتیس رمضان کواس کے اکتیس روزے ہوجائیں گے اب اسے کیاکرناچاہیے ؟ جواب: رمضان کے متعلق شرعی قاعدہ یہ ہے کہ اگر انتیس کوچاند نظر نہ آئے توتیس روزے پورے کئے جائیں ،اس کے بعد عید کی جائے۔ صورت مسئولہ میں متعلقہ شخص کے ہمارے ہاں انتیس رمضان کوتیس روزے ہوجائیں گے اسے مزید روزہ رکھنے کی ضرورت نہیں بلکہ وہ ہمارے ہاں تیس تاریخ کورو زہ نہ رکھے، البتہ احترام رمضان کے پیش نظر وہ برسرعام کھانے پینے سے اجتناب کرے ،اسی طرح اگرکوئی پاکستا ن سے سعودیہ جاتا ہے تواس کے روزے کم ہوں گے ،اسے چاہیے کہ وہاں لوگوں کے ساتھ عید منانے کے بعد اپنے روزے کی کمی کوپورا کرے،یعنی عید کے بعد قضا کرے ،اگر کسی کے تیس سے زیادہ روزے بنتے ہیں تواسے تیس سے زائد رکھنے کی ضرورت نہیں ،البتہ عید لوگوں کے ساتھ کرناہوگی، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاارشاد گرامی ہے:’’ روزے کم ہونے کی صورت میں انہیں عید کے بعد پورے کرے۔‘‘ [واللہ اعلم ]