کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 243
روزے رکھناعملی طورپر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے، تاہم مذکورہ حدیث کے پیش نظر نفلی روزے رکھے جاسکتے ہیں ۔صحیح بخاری میں بیان ہے کہ جس نے اللہ تعالیٰ کے راستہ میں ایک دن کاروزہ رکھا ،اللہ تعالیٰ سترسال کی مسافت تک اس کے چہرے کو آگ سے دورکردیں گے ۔ [صحیح بخاری ،الجہاد:۲۲۴۰] اس حدیث کے عموم سے ذوالحجہ کے پہلے نودنوں کے روزے رکھنے کاجواز معلوم ہوتا ہے، سنن ترمذی میں ایک حدیث ہے، ذوالحجہ کے پہلے دس دنوں میں عبادت کرنا اللہ تعالیٰ کوبہت محبوب ہے۔ ان میں ایک دن کاروزہ سال کے روزوں کے برابر ہے ایک رات کاقیام شب قدر کے قیام کے برابر ہے ۔ [ترمذی ،الصوم :۷۵۸] سند کے اعتبار سے یہ حدیث ضعیف ہے، جیسا کہ امام ترمذی نے وضاحت کی ہے لیکن بطور تائید پیش کی جاسکتی ہے، البتہ نویں ذوالحجہ کاروزہ رکھنے کی بہت فضیلت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’عرفہ کے دن روزہ رکھنے سے ایک سال گزشتہ اورایک سال آیندہ کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔‘‘ [صحیح مسلم ،الصوم :۲۷۴۷] البتہ حج کرنے والے حضرات یوم عرفہ، یعنی نویں ذوالحجہ کا روزہ نہ رکھیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوران حج اس دن کاروزہ نہیں رکھا تھا ۔ [صحیح بخاری، الصیام: ۱۹۹۸] ہمارے رجحان کے مطابق ذوالحجہ کے پہلے نودنوں کے روزے رکھے جاسکتے ہیں احادیث کے عموم سے جوا زمعلوم ہوتا ہے، اگرچہ عملی طورپر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان دنوں روزے رکھناثابت نہیں ہے۔ [واللہ اعلم] سوال: ہم جب یوم عرفہ کاروزہ رکھتے ہیں تویوم عرفہ گزرچکا ہوتاہے کیاہمیں اس دن کاروزہ رکھنا چاہیے جس دن حاجی لوگ میدان عرفات میں ہوتے ہیں یاہمیں نویں ذوالحجہ کوروزہ رکھناچاہیے، خواہ سعودیہ میں یوم عرفہ گزرچکا ہو؟ جواب: یوم عرفہ نوذوالحجہ کوہوتا ہے حجاج کرام کواس دن روزہ رکھنا منع ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کے موقع پر اس دن کاروزہ نہیں رکھا ہے، چنانچہ حضرت ام فضل بنت حارث رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے ذوالحجہ کی نویں تاریخ کومیدان عرفات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے دودھ کاایک پیالہ بھیجا تو آپ نے اسے نوش فرمایا جبکہ آپ اونٹ پربیٹھے تھے۔ [صحیح بخاری ،الحج :۱۶۶۱] البتہ جولوگ میدان عرفات میں نہیں ہیں ان کے لئے اس کاروزہ رکھنے کی بہت فضیلت ہے لیکن وہ نویں ذوالحجہ کاروزہ رکھیں گے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی نویں ذوالحجہ کاروزہ رکھاتھا۔ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نوذوالحجہ، یوم عاشورہ (دس محرم ) اورہرماہ میں تین دن کے روزے رکھتے تھے۔ [ابوداؤد ،الصیام :۲۴۳۴] ہم نے اپنے حساب سے نوذوالحجہ کاروزہ رکھنا ہے، اس سلسلہ میں ہم سرزمین مقدس کاحساب نہیں رکھیں گے کیونکہ سعودیہ سے مشرق والے ایک یا دودن پیچھے ہیں اگروہاں ۱۵ ذوالحجہ ہے توہمارے ہاں تیرہ یاچودہ ذوالحجہ ہوگی اورسعودیہ سے مغربی علاقے ایک یادودن آگے ہیں اگر سعودیہ میں ۱۵ ذوالحجہ ہے تووہاں سولہ یاسترہ ذوالحجہ ہوگی ہے۔ اگرذوالحجہ کی نویں تاریخ کے روزے کوسعودیہ کے حساب سے رکھاجائے تواس کامطلب یہ ہے جوعلاقے سعودیہ سے ایک دن یادودن آگے ہیں وہاں سعودیہ کی نویں تاریخ دس یاگیارہ ذوالحجہ ہوگی ،یعنی وہاں عید ہوگی اورعید کاروزہ رکھنا شرعاًممنوع ہے۔ اسی لئے ہم نے اپنے حساب سے