کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 242
میں اکابرین خصوصاًحضرت الامیر پروفیسرساجد میرحفظہ اللہ سے دعا کی درخواست کریں کہ اللہ تعالیٰ ہماری طرف سے صلح کی کوشش کوکامیاب کرے اورہماری جان بچ جائے۔ ہماری جملہ اہلحدیث حضرات سے بھی دعا کی اپیل ہے ، ہم نے مرکز میں عرصۂ دراز سے اکابرین جماعت سے رابطہ رکھاہوا ہے۔ ہماری طرف سے ایک سوال پیش خدمت ہے اس کاجواب بذریعہ اہلحدیث دیں۔ کیا قید کے اند ربھی مالدار قیدی پرزکوٰۃ فرض ہے، نیز کیاقیدی کے لئے حرام مال جائز ہے اگرچہ اسے اس کے حرام ہونے کاعلم بھی ہو؟ جواب: آپ کے خط کاخلاصہ ہم نے شائع کردیا ہے ،امید ہے کہ اکابرین جماعت اوردیگر اہل حدیث ضرور آپ کے معاملہ میں دلچسپی لیں گے۔ ہماری دعائیں آپ کے ساتھ ہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ وہی برتاؤ کرے جس میں وہ خوش اور راضی ہو۔(آمین )ارسال کردہ سوال کے متعلق گزارش ہے کہ زکوٰۃ کی ادائیگی کے لئے مندرجہ ذیل شرائط کا ہوناضروری ہے: 1۔ وہ مال جس سے زکوٰۃ اداکرنا ہے وہ حلال ذرائع سے کمایاگیا ہو اوروہ انسان کی ملکیت ہو ۔ 2۔ انسانی ضروریا ت سے فاضل ہو،گھر کے اخراجات اوردیگر مصارف سے پس اندازکیاہواہو۔ 3۔ اتنی مالیت ہوکہ سونے یاچاندی کے نصاب کوپہنچ جائے ۔ 4۔ اس پر ایک سال گزرجائے ۔ اگریہ شرائط کسی مال میں پائی جاتی ہیں تواس سے ڈھائی فیصد، یعنی چالیسواں حصہ بطورزکوٰۃ اد اکرناضروری ہے، اس میں قیدی یاغیرقیدی کی پابندی نہیں، اس لئے اگر آپ حضرات کے پاس اتنا مال ہو (خواہ آپ کے ہاں یا آپ کے گھر میں ہے) تواس سے زکوٰۃ اد اکریں ،نیز قرآن وحدیث میں ہمیں ا س بات کاپابند بنایا گیا ہے کہ ہم حلال اورطیب مال استعمال کریں۔ اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے حضرات انبیاf، اہل ایمان اورعام لوگوں کوالگ الگ خطاب کیاگیا ہے کہ ’’حلال اور پاکیزہ مال استعمال کرو اور نیک اعمال بجا لائو۔‘‘ قرآن و حدیث میں کہیں نہیں ہے کہ قیدیوں کو اس پابندی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہو،اسلامی احکام تمام کے لئے یکساں ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ حضرات کوخدمت دین کی توفیق دے اورہم سب کاخاتمہ ایمان پرکرے۔باوضو ہوکر آیت کریمہ ’’لاَ اِلٰہَ اِلاَّ اَنْتَ سُبْحَانَکَ اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِیْن۔‘‘کثرت سے پڑھا کریں، اس میں بہت خیروبرکت ہے۔ [واللہ اعلم] یکم ذوالحجہ سے نوذوالحجہ تک روزے رکھنے جائز ہیں ،کیااسلاف سے یہ عمل ثابت ہے، قرآن وحدیث کی روشنی میں وضاحت فرمائیں؟  ذوالحجہ کے پہلے عشرہ کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاارشاد گرامی ہے:’’ان دنوں ہرنیک عمل اللہ تعالیٰ کوبہت پسند ہے۔‘‘ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یارسول اللہ! دوسرے دنوں میں جہاد بھی ان دنوں کے نیک عمل سے بڑھ کر نہیں ہوسکتا، آپ نے فرمایا: ’’ان دنوں نیک عمل دوسرے دنوں میں جہادفی سبیل اللہ سے بڑھ کر ہے، ہاں، اس شخص کی فضیلت زیادہ ہے جواللہ کے راستہ میں جہاد کے لئے نکلے اوراپنی جان اورمال سب کچھ اللہ کی راہ میں قربان کردے اورکچھ بھی لے کرواپس نہ آئے ۔‘‘ [مسند احمد، ص:۲۲۴، ج ۱] اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ان دنوں ہرنیکی کاکام کیاجاسکتاہے جن میں روزے رکھنا بھی شامل ہے، اگرچہ ان دنوں