کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 237
اس بنا پر اسے اس تکلف میں پڑنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کہ وہ کھانے پینے سے باز رہے ۔ [واللہ اعلم بالصواب] سوال: کیا حالت روزہ میں ناک میں دوا کے قطرے ڈالے جاسکتے ہیں اس کے متعلق شرعی حکم بیان کریں؟ جواب: ناک میں ڈالے جانے والی دوا کاقطرہ اگرمعدہ تک پہنچ جائے تواس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاارشاد گرامی ہے کہ ’’ناک میں پانی چڑھانے میں خوب مبالغہ کر واِلاّ یہ کہ تم روزے کی حالت میں ہو۔‘‘ [سنن نسائی ، الطہارۃ :۸۷] اس حدیث کی بنا پر روزے دار کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ ناک میں ایساقطرہ ڈالے جواس کے معدے میں پہنچ جائے اگرناک میں ڈالا جانے والا دوائی کاقطرہ معدے تک نہ پہنچے تواس سے روزہ نہیں ٹوٹے گا، البتہ آنکھوں اورکان میں قطرے ڈالنے کی کوئی ممانعت نہیں ہے اورنہ ہی ان کے استعمال سے روزہ ٹوٹتا ہے۔ اسی طر ح سر میں تیل کی مالش کرنے سے بھی روزہ متاثر نہیں ہو تا۔ [واللہ اعلم ] سوال: مستورات کامسجد میں اعتکاف کرناشرعاًکیساہے ؟محرم کے بغیرعورت اکیلی سفر نہیں کرسکتی تومسجد میں دس یوم تک اکیلی اعتکاف کیسے کرسکتی ہے اگرکرسکتی ہے تواس کے لیے کیالوازم ہیں، نیز کیانابالغ بچی اعتکاف کرسکتی ہے۔کتاب و سنت کی روشنی میں جواب دیں؟ جواب: واضح رہے کہ دنیاوی علائق سے الگ تھلگ ہوکرتقرب الہٰی کی نیت سے کچھ وقت مسجد میں قیام کرنے کو شرعاً اعتکاف کہا جاتا ہے۔ اس بنا پر اگرتقرب الہٰی کی نیت نہ ہوچکی تھی ۔نیت توہے لیکن مسجد میں قیام نہیں ہے توان دونوں صورتوں کوشرعی اعتکاف نہیں کہاجائے گا۔ مسجد کی شرط اس لئے ہے کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اورجب تم مساجد میں اعتکاف بیٹھے ہوتوان (بیویوں) سے مباشرت نہ کرو۔‘‘ [۲/البقرہ :۱۸۷] آیت کریمہ میں مساجد کابطورخاص ذکر اس بات کاتقاضا کرتا ہے کہ اعتکاف کے لئے مسجد کاہوناضروری ہے۔ اس بنا پر عورتوں کاگھروں میں اعتکاف کرناصحیح نہیں ہے بلکہ انہیں بھی اعتکاف مسجد میں ہی بیٹھنا چاہیے، البتہ انہیں مندرجہ ذیل شرائط کوملحوظ خاطر رکھناہوگا : ٭ عورت کے لئے مردوں سے بایں طورپرالگ انتظام ہوکہ مردوں کے ساتھ اختلاط کاقطعاًکوئی امکان باقی نہ رہے کیونکہ اختلاط کواللہ اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے پسند نہیں کیا ہے۔ ٭ خاوند سے اعتکاف بیٹھنے کی اجازت حاصل کی جائے، بصورت دیگر اعتکاف صحیح نہیں ہو گا۔ ٭ بحالت اعتکاف مخصوص ایام کے آجانے کابھی اندیشہ نہ ہو۔ ٭ کسی قسم کے فتنہ وفساد کاخطرہ بھی نہ ہو۔ ٭ خوردونوش اوردیگر لوازم کاباقاعدہ انتظام ہو،تاکہ باہر جانے کی ضرورت نہ پڑے۔ اگریہ شرائط پوری نہ ہوں تو عورتوں کے لئے اعتکاف سے اجتناب زیادہ بہترہے، ایسے حالات میں گھر کے کسی گوشہ میں شوق عبادت پوراکرلیناچاہیے ،لیکن اسے شرعی اعتکاف نہیں کہاجائے گا اورنہ ہی اعتکاف کی پابندیاں اس پرعائد ہوں گی بعض