کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 236
سوال: ہماری مسجد میں باہمی اختلاف کی وجہ سے بیک وقت نمازتراویح کی دوجماعتیں ہوتی ہیں کیانوافل کی جماعت کے وقت دوسری جماعت ہوسکتی ہے؟ جواب: سوال میں ذکر کردہ صورت حال انتہائی تکلیف دہ ہے ۔ہم لوگ آپس کی لڑائی ،جھگڑے وغیر ہ کاانتقام مسجد اوراس کے معاملات سے لینے کے عادی ہوچکے ہیں، حالانکہ مسجد میں نمازباجماعت ہمیں اتحاد اوریگانگت کاسبق دیتی ہے، پاؤں سے پاؤں ملانے سے دلوں کا باہمی ملاپ ہوتا ہے۔ ایک جماعت کی صورت میں دوسری جماعت شرعاًجائز نہیں ہے اگرچہ احادیث میں فرض نماز کے متعلق یہ وعید ہے، تاہم موجودہ صورت حال کے پیش نظر نوافل کی بیک وقت دوجماعتوں کافتویٰ نہیں دیاجاسکتا ،کیونکہ ایساکرنے سے اختلاف کی خلیج مزید وسیع ہوگی۔ جماعتی احباب کوچاہیے کہ اتحادو اتفاق کی فضا کوہموارکیاجائے ،اگرکوئی لڑائی جھگڑے سے بچنے کے لیے اپنے حق سے دستبردار ہوجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے اعلیٰ جنت میں اسے جگہ دینے کی بشارت دی ہے ،ہمیں چاہیے کہ ایسے حالات میں اپناغصہ تھوک کرباہمی شیر وشکرہوجائیں ،ایسا نہیں ہوناچاہیے کہ اپنے اختلافات کوبرقرار رکھنے کے لئے شرعی طورپرکوئی جوا زتلاش کیاجائے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں کوصاف رکھے اورآپس میں محبت اور پیار سے رہنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین سوال: دمے کامریض بعض اوقات بھاپ کی طرح دوااستعمال کرتا ہے جس سے سانس کی آمد ورفت میں آسانی ہوجاتی ہے روزے کی حالت میں یہ عمل کرناجائز ہے؟ جواب: ضیق النفس، یعنی دمے کامریض اس طرح کی دواستعمال کرسکتا ہے اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا کیونکہ اس کے استعمال سے دوا کے اجزا معدہ تک نہیں پہنچتے ۔یہ دوادھواں بن کراڑجاتی ہے اورصرف سانس کوکشادہ کرتی ہے۔ اس کاکوئی جز معدہ تک نہیں پہنچتا، لہٰذا روزہ کی حالت میں اسے استعمال کرناجائز ہے ۔اس سے روزہ باطل نہیں ہوتا ،اس طرح روزہ کی حالت میں آکسیجن بھی لی جاسکتی ہے بشرطیکہ اس کے ساتھ کوئی اوردوانہ ہوکیونکہ یہ سانس لیناہے اورسانس کے ذریعے ہوالینے سے روزہ فاسد نہیں ہوتا اور نہ ہی اس پرکھانے پینے کااطلاق ہوتا ہے اگراس کے ساتھ اورکسی دوا کے اجزا ہوں توپھر روزہ برقرار نہیں رہے گا۔ بعض اوقات ناک بند ہوجاتی ہے، ایسی صورت میں وکس وغیرہ سونگھنے سے بھی روزہ نہیں ٹوٹتا، اس کی حیثیت خوشبو سونگھنے کی طرح ہے، جس طرح خوشبو سونگھنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا اس طرح وکس وغیرہ دوا جس سے بند ناک کھل جاتی ہے اس سے بھی روزہ نہیں ٹوٹتا ۔ [واللہ اعلم] سوال: میں سعودیہ جانے کے لئے لاہور ایئر پورٹ پرتھا کہ اذان مغرب ہونے لگی میں نے روزہ افطار کرلیا، پھرمجھے ہوائی جہاز کی پرواز کے دوران سورج نظرآیا توایسی حالت میں مجھے کیا کرنا چاہیے؟ جواب: ایسی حالت میں کھانے پینے پرکوئی پابندی نہیں ہے کیونکہ جب روزہ افطار کیا توزمین کے اعتبار سے سورج غروب ہو چکا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاارشاد گرامی ہے: ’’جب تم دیکھو کہ رات ادھر سے آگئی توروزہ دار اپناروزہ افطار کر لے۔‘‘ [صحیح بخاری، الصیام:۱۹۴۱] اب جب روزے دار اپناروزہ افطار کرنے کے بعد ہوائی جہاز میں محوپرواز ہے تو اسے کھانے پینے سے منع کرنا د رست نہیں ، کیونکہ اس نے شرعی دلیل کے مطابق روزہ افطار کیاہے اوراب شرعی دلیل کے ساتھ ہی اسے کھانے پینے سے منع کیا جاسکتاہے۔