کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 235
ام ورقہ بنت عبداللہ رضی اللہ عنہا کاواقعہ نقل کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دی تھی کہ وہ اپنے اہل خانہ کی نماز باجماعت کے لیے امامت کے فرائض سرانجام دے ۔ [ابو داؤد ،الصلوٰۃ :۵۹۲] امام بیہقی رحمہ اللہ نے بھی اپنی سنن میں ایک عنوان بیان کیا ہے: ’’عورتوں کی امامت کااثبات۔‘‘ پھر انہوں نے صدیقہ کائنات عائشہ رضی اللہ عنہا کا واقعہ نقل کیا ہے۔ انہوں نے ایک دفعہ فرض نماز کے لئے عورتوں کے درمیان کھڑی ہوکر ان کی امامت کرائی تھی۔ [بیہقی، ص: ۱۳۰، ج ۳] حضرت ام حسن کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کوعورتوں کی امامت کراتے دیکھا کہ آپ ان کے درمیان کھڑی تھیں۔ [مصنف ابن ابی شیبہ، ص: ۵۳۶، ج ۳] حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ عورت دیگر عورتوں کی جماعت کراسکتی ہے۔ لیکن وہ آگے کھڑے ہونے کے بجائے درمیان میں کھڑی ہو ۔ [مصنف ابن ابی شیبہ، ص:۵۳۶ج ۳] ان احادیث و آثار کے پیش نظر عورت دوسری عورتوں کی جماعت کراسکتی ہے لیکن اسے جماعت کراتے وقت عورتوں کے درمیان کھڑا ہونا چاہیے، اس لئے بچی اگرصاحب شعورہے تونمازتراویح میں قرآن سناسکتی ہے اوراسے عورتوں کی جماعت کرانے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ [واللہ اعلم ] سوال: ہمارے ہاں مسجد کی گیلری میں عورتوں کے لئے نماز تراویح کااہتمام کیاگیا ہے، صحن مسجد میں نمازتراویح کی وجہ سے اس صورت میں عورتیں گیلری میں امام کے آگے ہوجاتی ہیں، کیا اس طرح ان کانماز تراویح پڑھنادرست ہے؟ جواب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دورمبارک میں عورتیں ،مردوں کے پیچھے کھڑی ہوتی تھیں ۔اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاارشاد گرامی ہے: ’’عورتوں کی بہترین صف آخری اوربدترین پہلی صف ہے۔‘‘ [صحیح مسلم ،الصلوٰۃ :۴۴۰] اس کی وجہ یہ ہے کہ عورتوں کی آخری صف مردوں سے زیادہ دور اوران کی پہلی صف مردوں سے زیادہ قریب ہو گی، ہاں، اگرعورتوں کے لئے نماز کی الگ جگہ مخصوص ہو، یعنی ’’مصلی النساء ‘‘الگ ہوتواس صورت میں مردوں کی طرح ان کی پہلی صف ہی بہتر ہوگی ،بہرحال مذکورہ حدیث سے یہ پتہ چلتا ہے کہ عورتیں مردوں کے پیچھے کھڑی ہوتی تھیں، عورتوں کامردوں کے آگے کھڑا ہونااسوۂ نبوی کے خلاف ہے۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی دادی حضرت ملیکہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لے گئے،توآپ نے وہاں نماز پڑھی، حضرت انس رضی اللہ عنہ اوران کابھائی آپ کے پیچھے کھڑے ہوئے اورحضرت ملیکہ رضی اللہ عنہا اکیلی ان دونوں کے پیچھے کھڑی ہوئیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دورکعت پڑھائیں۔ [صحیح بخاری ،الصلوۃ:۳۸۰] امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس حدیث کوبیان کرنے کے بعدلکھا ہے کہ جب امام کے ساتھ ایک مرد اورایک عورت ہوتو مردکوامام کی دائیں جانب اورعورت کوان دونوں کے پیچھے کھڑا ہونا چاہیے۔ [ترمذی، الصلوٰۃ: ۲۳۴] ویسے بھی صورت مسئولہ میں عورتیں امام سے بھی آگے ہوجاتی ہیں جوکسی حالت میں درست نہیں ہے۔ اس لئے عورتوں کے لئے نمازتراویح پڑھانے کاکوئی متبادل بندوبست کرلیاجائے ۔ [واللہ اعلم ]