کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 232
اسے سمجھ نہیں سکا ۔‘‘ [ابوداؤد ،الصلوٰۃ :۱۳۹۰،۱۳۹۵] الغرض قرآن کریم کی تلاوت کے آداب سے ہے کہ اسے تین دن سے کم مدت میں ختم نہ کیاجائے ۔ [واللہ اعلم] سوال: ہمارے ہاں عام طور پرغروب آفتاب کے بعد احتیاطاًدوتین منٹ روزہ افطار کرنے میں انتظار کیا جاتا ہے، اس ’’احتیاط ‘‘کی شرعاًکیاحیثیت ہے؟ جواب: حدیث میں ہے کہ افطاری کاوقت غروب آفتاب ہے اگرکسی شرعی عذرکی بنا پرکبھی کبھار ایک دومنٹ تاخیر ہوجائے تو چنداں حرج نہیں ،البتہ احتیاط کے پیش نظر ہمیشہ تاخیر کرنامکروہ بلکہ ممنوع ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کافرمان ہے: ’’جب ادھر رات آجائے اورادھر دن چلا جائے اورسورج بھی غروب ہوجائے توروزے دارکو روزہ افطار کردینا چاہیے۔‘‘ [صحیح مسلم، الصیام: ۱۱۰۰] حضرت ابوعطیہ فرماتے ہیں کہ میں اور حضرت مسروق ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اورعرض کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے دوایسے ہیں کہ ایک جلدی روزہ افطار کرتے ہیں اورجلدی نماز پڑھتے ہیں جبکہ دوسرے تاخیر سے روزہ کھولتے ہیں اورنماز بھی تاخیر سے ادا کرتے ہیں۔ (ان میں کون سنت کے مطابق عمل کرتا ہے؟) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے دریافت فرمایا کہ جلدی کرنے والا کون ہے ؟ہم نے عرض کیا کہ وہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں ۔اس پرحضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح عمل کرتے تھے، یعنی ان کاعمل سنت کے عین مطابق ہے۔ دوسرے صحابی حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ ہیں ۔ [صحیح مسلم ، الصیام :۱۰۹۹] افطاری جلدی کرنے کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاارشاد ہے کہ ’’لوگ اس وقت تک خیروبرکت میں رہیں گے جب تک افطاری کرنے میں دیرنہیں کریں گے ۔‘‘ [صحیح بخاری ،الصیام :۱۹۵۷] ابن حبان کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ غروب آفتاب کے بعد احتیاط کابہانہ بنا کر دیر کرنایہودونصاریٰ کاشیوہ ہے، چنانچہ فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ ’’یہودونصاریٰ تاخیر سے افطارکرتے ہیں تم روزہ جلد افطار کیاکرو۔‘‘ [صحیح ابن حبان :۶/۲۰۹] بلکہ ایک روایت میں مزید وضاحت ہے کہ ’’میری امت کے لوگ اس وقت تک میرے طریقے پرگامزن رہیں گے، جب تک وہ روزہ افطار کرنے کے لئے ستاروں کے چمکنے کاانتظا ر نہیں کریں گے۔‘‘ [بیہقی :۴/۲۳۸] احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کاایک امتیازی وصف بایں الفاظ بیان ہوا ہے کہ وہ افطاری جلدی کرتے اور سحری دیر سے تناول فرماتے تھے ۔ [ترمذی، کتاب الصوم] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاروزے کے متعلق افطار کاعمل اس قدر جلدی ہوتاکہ آپ دوسروں کے احتیاطی رویہ کومسترد فرما دیتے، چنانچہ حضرت عبد اللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ماہ رمضان میں سفر کررہے تھے ۔جب سورج غروب ہوگیا توآپ نے فرمایا: ’’سواری سے اتر کرستو تیار کرو۔‘‘ عرض کیاگیا کہ ابھی تودن کی روشنی نظرآرہی ہے ذراتاخیر کرلی جائے توبہتر ہوگا آپ نے فرمایا: ’’سواری سے اتر کرستوتیارکرو۔‘‘چنانچہ آپ کے لئے ستوتیار کیے گئے۔ آپ نے انہیں نوش فرمایا، اس کے بعد وہی الفاظ استعمال کئے جوپہلے بیان ہوچکے ہیں ۔ [صحیح مسلم ،الصیام :۱۱۰۱]