کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 231
کوپڑھنے اورسننے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے ۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نماز تراویح پڑھانے کے لئے بہترین قراء کا انتخاب کرتے تھے۔ کتب احادیث میں حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہما اورحضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ کانام بطور خاص ملتا ہے ۔راوی بیان کرتا ہے کہ نماز تراویح میں حافظ قرآن سو آیات کی تلاوت کرتا اوریہاں تک کہ قیام کے طویل ہونے کی وجہ سے بعض مقتدی اپنی لاٹھیوں کاسہار الینے پرمجبور ہو جاتے، پھراس قیام سے صبح صادق کے قریب فراغت حاصل کرتے۔ [مؤطاامام مالک ،ص:۱۳۷،ج ۱] تکمیل قرآن کے لئے ہماری رائے یہ ہے کہ انتیسویں رات کاانتخاب کیاجائے اس کے لئے خاص اہتمام کاتکلف نہ کیاجائے، بلکہ سادگی کے ساتھ اسے سرانجام دیا جائے۔ تکلفات سے بالا تر ہو کر اگر کوئی نمازی اپنی طرف سے مٹھائی وغیرہ کا اہتمام کرتا ہے تو اسے قابل گردن زنی جرم نہ قرار دیا جائے۔ ہم لوگ خوشی کے موقع پر اپنے گھروں میں اس طرح کااہتمام کرتے رہتے ہیں لیکن اس کے لئے آخری عشرہ کے آغاز سے تحریک چلانااور تقسیم شرینی کے نام سے چندہ اکٹھا کرنا، باقاعدہ ہرنماز کے بعد اس کااعلان کرناصحیح نہیں ہے۔اس سلسلہ میں حافظ عبداللہ روپڑی رحمہ اللہ کامعتدل فتویٰ حسب ذیل ہے : ’’بعض تفاسیر میں لکھا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جب سورۂ بقرہ ختم کی تودس اونٹ ذبح کیے، اس سے معلوم ہوا کہ کسی دینی کتاب کے ختم ہونے پراگرکوئی خوشی کی جائے توحرج نہیں لیکن اس کاالتزام کرنااوراس کوضروری سمجھنا، جیسا کہ آج کل ہوتا ہے یہ طریقہ مناسب نہیں ،کیونکہ سلف میں اس قسم کے التزام کاثبوت نہیں ہے ۔‘‘ [فتاویٰ اہلحدیث ،ص:۶۷۶،ج ۱] واضح رہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عمل کاحوالہ اب مجھے مستحضر نہیں ہے اس موقع پر یہ گزارش کرنابھی ضروری ہے کہ نماز تراویح پڑھانے والے حافظ قرآن کو چاہیے کہ وہ لوجہ اللہ اس کام کوسرانجام دے ،دل میں کسی قسم کاطمع اورلالچ نہ رکھے ،نیز انتظامیہ کوبھی چاہیے کہ وہ برسرعام اس حافظ قرآن کی عزت نفس اورخود داری کومجروح کرنے کے بجائے خاموشی کے ساتھ اس کی جوخدمت کرناچاہیں کر دیں۔ بھری مسجد میں ایسی باتوں کااعلان کرناصحیح نہیں ہے ،بہرحال ہمیں اعتدال کے دامن کوتھامناہوگا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میانہ روی اور اعتدال کوہی بہتر قرار دیا ہے ۔ [واللہ اعلم] سوال: رمضان المبارک میں اوردیگر مہینوں میں حافظ قرآن کے ہاں شبینہ پڑھنے کارواج ہے، اس کی شرعی حیثیت کیا ہے۔ کیاایسا کرناجائز ہے؟ جواب: قرآن کریم پڑھنے کاادب یہ ہے کہ اسے آہستہ آہستہ خوب سوچ کرپڑھا جائے ،اسے جلدی جلدی پڑھناکہ اس کے الفاظ وحروف کاپتہ نہ چلے یاان کی ادائیگی صحیح طورپر نہ ہو ،ایسا کرناآداب تلاوت کے خلاف ہے۔ ویسے بھی تین دن سے کم مدت میں اسے مکمل کرنارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کے خلاف ہے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن مجیدکے ختم کے لیے کم از کم مدت تین دن مقررفرمائی ہے۔ چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق سوال کیا تو آپ نے فرمایا: ’’چالیس دن میں قرآن کریم ختم کیا کرو۔‘‘ ان کے عرض کرنے پرفرمایا کہ ’’ایک ماہ میں ختم کیا کرو۔‘‘ پھر بیس دن اس کے بعد پندرہ دن اس کے بعد آپ نے ایک ہفتہ میں قرآن کریم ختم کرنے کی اجازت دی۔ انہوں نے عرض کیا کہ میں اس سے بھی کم مدت میں قرآن کریم ختم کرنے طاقت رکھتا ہوں توآپ نے فرمایا: ’’جو اسے تین دن سے کم مدت میں ختم کرتا ہے وہ