کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 230
روزے کی قطعاًضرورت نہیں جو بحالت روزہ جھوٹی بات اوراس کے مطابق عمل کوترک نہیں کرتا ۔‘‘ [صحیح بخاری ،الصوم :۱۹۰۳] ٭ روزے کی حالت میں کثرت کے ساتھ صدقہ اورلوگوں کے ساتھ احسان کیاجائے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں سب سے زیادہ سخی تھے، لیکن رمضان میں جب حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ قرآن کادورکرتے توآپ سراپا جو دوسخا بن جاتے۔ [صحیح بخاری ،الصوم :۱۹۰۲] ٭ روزے کے یہ بھی آداب ہیں کہ سحری کھائی اورتاخیرکے ساتھ تناول کی جائے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاارشاد گرامی ہے: ’’سحری کھاؤ! کیونکہ سحری کھانے میں برکت ہے ۔ ‘‘ [صحیح مسلم ،الصیام :۱۰۹۵] ٭ کھجور کے ساتھ روزہ افطار کیاجائے ،اگرتازہ کھجور میسرنہ ہو توخشک کھجور کے ساتھ افطار کیاجائے، بصورت دیگر پانی کا گھونٹ پی لیاجائے ۔ ٭ جب یقین ہوجائے کہ سورج غروب ہوگیا ہے توفوراًروزہ افطار کرلیناچاہیے ،کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاارشاد گرامی ہے: ’’لوگ ہمیشہ خیروبرکت سے رہیں گے جب تک افطار کرنے میں جلدی کریں گے ۔ ‘‘ [صحیح مسلم ،الصیام :۱۰۹۸] ٭ وقت افطار قبولیت دعا کاوقت ہے افطار کرتے وقت درج ذیل دعا پڑھے: ’’اَللّٰھُمَّ لَکَ صُمْتُ وَعَلٰی رِزْقِکَ اَفْطَرْتُ‘‘ [ابوداؤد ،الصیام :۲۳۵۸] ’’اے اللہ میں نے تیرے لئے روزہ رکھا اورتیرے ہی رزق پرافطار کیا۔‘‘رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درج ذیل دعابھی ثابت ہے: ’’ذَھَبَ الظَّمَأُ وَابْتَلَّتِ الْعُرُوْقُ وَثَبَتَ الْاَجْرُ اِنْ شَائَ اللّٰہُ ۔‘‘ [ابوداؤد ،الصیام :۲۳۵۷] ’’پیاس ختم ہوگئی رگیں تر ہوگئیں اوران شاء اللہ اس کااجرثابت ہوگیا ۔‘‘یہ مختصر آداب ہیں۔ تفصیل کے لئے کتب حدیث کی طرف رجوع کیاجاسکتا ہے ۔ سوال: رمضان المبارک میں نماز تراویح باجماعت پڑھائی جاتی ہے، عام طورپر ستائیسویں رات قرآن کریم ختم کیا جاتا ہے، اس موقع پر مٹھائی وغیرہ تقسیم کرنے کا اہتمام کیاجاتا ہے اس کی شرعی حیثیت کیا ہے کیاایسے موقع پر یہ اہتمام اسلاف سے ثابت ہے؟ جواب: رمضان المبارک میں تکمیل قرآن کے موقع پرمٹھائی وغیرہ تقسیم کرنے کے متعلق ہم افراط وتفریط کاشکار ہیں بعض انتہاپسند اسے بدعت قراردے کر اسے ضلالت و گمراہی سے تعبیر کرتے ہیں، پھر اسی پر اکتفا نہیں کرتے ،بلکہ یہ کام کرنے والوں کوجہنم رسید کرکے سانس لیتے ہیں، جبکہ دوسری طرف جوتساہل پسندہیں ان کارویہ انتہائی قابل اعتراض اورمحل نظر ہے کیونکہ وہ ایسے موقع پر کھانے پینے کااس قدر تکلف کرتے ہیں کہ اللہ کاگھر شادی محل معلوم ہوتا ہے بلکہ بعض مساجد میں آخری عشرہ اسی انداز سے گزاراجاتا ہے کہ طاق راتوں میں دیگیں پکائی جاتی ہیں، تقریر اوروعظ ونصیحت کے لئے جید اورخوش الحان علمائے کرام کو مدعو کیا جاتا ہے اورساری رات کھانے پینے اوروعظ ونصیحت سننے سنانے میں گزرجاتی ہے۔ ہمارے نزدیک اس قسم کی افراط وتفریط درست نہیں، بلاشبہ رمضان المبارک نماز تراویح میں قرآن کریم پڑھنا اورسنناایک بہترین عمل ہے۔ اس کے لئے کسی متدین اورمتشرع حافظ قرآن کی خدمات بھی حاصل کی جاسکتی ہیں جوخوش الحانی کے ساتھ قرآن کریم کی تلاوت کرے ،نماز تراویح میں مکمل قرآن کریم