کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 229
گپیں لگاتے رہنااوردن کو روزہ رکھ کرسوئے رہنا دانشمندی نہیں ہے اورنہ ہی ایسا کرنے سے روزے کامقصد پورا ہوتا ہے ۔ سوال: کسی مجبوری کی وجہ سے بحالت روزہ ٹیکہ لگواناجائز ہے ۔کیا اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟ شریعت اس سلسلہ میں ہماری کیا راہنمائی کرتی ہے۔ جواب: روزے کی حالت میں ٹیکہ لگوانے کے متعلق ہم نے پہلے بھی فتویٰ دیا تھا۔ جیسے اب نقل کیا جا رہا ہے۔ روزے کی حالت میں ٹیکہ لگوانا کچھ تفصیل کامتقاضی ہے ’’اگر ٹیکے کی حیثیت جسم کوغذا اورطاقت فراہم کرنے کی ہے تویہ ٹیکہ توبحالت روزہ کسی صورت میں جائز نہیں ہے کیونکہ اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اس طرح کاٹیکہ ورید، یعنی رگ میں لگایا جائے یا جسم کے کسی اورحصہ، یعنی گوشت وغیرہ میں اگر ٹیکہ بطوردوالگوانا ہے یاکسی جگہ بہت دردہے ،اسے آرام دینے کے لئے ٹیکہ لگوانے کی ضرورت ہے یا جسم کے کسی حصہ کوبے حس کرنا ہے، جیسا کہ دانت نکلواتے وقت کیاجاتا ہے ۔ان صورتوں میں ٹیکہ لگانے کی گنجائش ہے بعض دفعہ شدید بخار ہوتا ہے اس کی شدت کوکم کرنے کے لئے ٹیکہ لگوایا جاسکتاہے۔ ارشادباری تعالیٰ ہے: ’’اللہ تعالیٰ نے تم پردین کے متعلق کوئی تنگی نہیں رکھی ہے ۔‘‘ [۲۲/الحج :۷۸] سوال: کیا روزہ دارخون ٹیسٹ کراسکتا ہے ایساکرنے سے روزہ ٹوٹ جاتاہے یانہیں تفصیل سے وضاحت کریں؟ جواب: اس سلسلہ میں اصل قاعدہ یہ ہے کہ روزہ رکھنے کے بعد وہ باقی رہتا ہے کسی شرعی دلیل کے بغیرہم اسے فاسد قر ار نہیں دے سکتے اورایسی کوئی دلیل نہیں ہے جس سے معلوم ہوکہ خون کی معمولی مقدار سے روزہ ٹوٹ جاتا ہو، لہٰذا ٹیسٹ کے لئے خون لینے سے روزہ نہیں ٹوٹتا کیونکہ طبیب کوبسااوقات بیماری کی تشخیص کے لئے مریض سے خون لینے کی ضرورت ہوتی ہے، اس سے روزہ نہیں ٹوٹے گا کیونکہ یہ خون کی بہت معمولی مقدار ہے جوجسم پر سینگی لگوانے کی طرح اثرانداز نہیں ہوتی، البتہ بحالت روزہ کسی مریض کی جان بچانے کے لئے خون کاعطیہ دینے سے روزہ ٹوٹ جائے گا۔ خون دینے والے کوبعد میں اس کی قضادینا ہوگی اسے سینگی لگوانے کے عمل پرقیاس کیاجاسکتا ہے کیونکہ عطیہ دینے کے لئے کافی مقدار میں خون جسم سے خارج ہوجاتا ہے ۔البتہ نکسیر، مسواک یادانت نکلواتے وقت خون آجانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا ،اگرمریض کوغروب آفتاب سے پہلے خون دینے کی ضرورت ہو اور اطبا کی رائے کے مطابق اس کے مرض کے ازالہ کے لئے ایسا کرناضروری ہو تواس حالت میں خون کاعطیہ دیاجاسکتا ہے ،لیکن اس سے قوت ختم ہوجائے گی۔ خون دینے والے کوچاہیے کہ وہ کچھ کھائے پیئے تاکہ اس کی قوت واپس لوٹ آئے اوراس دن کی قضا اد ا کرنا اس پرلازم ہوگی ۔ سوال: مختصر طورپر روزے کے آداب بیان کردیں تاکہ روزے کے فوائد و ثمرات ہمیں حاصل ہوں، اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے؟ جواب: روزے کااہم ادب یہ ہے کہ اسے احکام الٰہی کی بجاآوری اورممنوع احکامات سے اجتناب کاذریعہ بنایا جائے اوراس دوران حصول تقویٰ کی کوشش کی جائے جو روزے کا اہم مقصد ہے، اس مرکزی ادب کے علاوہ دیگر آداب حسب ذیل ہیں: ٭ جھوٹی باتوں ،چغلی اورعیب جوئی سے پرہیز کیا جائے۔ حدیث میں اس کے متعلق بہت سخت وعید مروی ہے: ’’اللہ تعالیٰ کوایسے