کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 227
روزہ و اعتکاف سوال: بچے کودودھ پلانے والی کو جب روزہ رکھنے سے دودھ میں کمی آجاتی ہو، کیاایسے حالات میں اسے روزہ چھوڑنے کی اجازت ہے اگرروزہ چھوڑدے تواس کی تلافی کیسے ہوگی؟ جواب: دودھ پلانے والی اورحاملہ عورت کواگر روزہ رکھنے سے اپنی یابچے کی صحت خراب ہونے کااندیشہ ہوتووہ روزہ چھوڑ سکتی ہے۔ اسی طرح اگرروزہ رکھنے سے دودھ کم ہونے کااندیشہ ہوتواسے روزہ چھوڑنے کی اجازت ہے۔ ایسے حالات میں اسے رمضان کے بعد روزوں کی قضادیناہوگی ۔اگر آیندہ رمضان تک دودھ پلانے کا عذر قائم رہے اوراسے قضا دینے کی فرصت نہ ہو تو فدیہ دے کر اپنے فرض سے سبکدوش ہوجائے۔ حدیث میں ہے کہ ’’اللہ تعالیٰ نے مسافر کوروزہ اورنصف نماز معاف کر دی ہے، اسی طرح حاملہ اوردودھ پلانے والی کوبھی روزہ نہ رکھنے کی اجازت دی ہے۔‘‘ [مسندامام احمد، ص: ۲۹،ج ۵] نیز اس قسم کی عورت مریض کے مشابہہ ہے جس کے متعلق ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ’’اور جوبیمارہو یادوران سفر ہوتووہ دوسرے دنوں میں روزے رکھ کر ان کی گنتی پوری کرلے ۔اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ آسانی چاہتا ہے کسی قسم کی سختی کاارادہ نہیں رکھتا ۔‘‘[۲/البقرہ :۱۸۵] اگریہ عذر ہمیشہ کے لئے ہے تووہ ایسے مریض کے مشابہہ ہے جو ہمیشہ مرض میں مبتلارہتا ہے۔ دائمی مریض کے لئے قضا کے بجائے فدیہ دینا ہے، اس بنا پر دودھ پلانے والی عورت کاعذر بھی اگردائمی ہے تووہ فدیہ دے کر ترک کردہ روزوں کی تلافی کرسکتی ہے۔ [واللہ اعلم ] سوال: میری والدہ نے روزہ رکھاتھا اسے دوران روزہ قے آگئی اس کے متعلق کیاشرعی حکم ہے، کیاقے آنے سے روزہ ٹوٹ جاتاہے؟ وضاحت فرمائیں ۔ جواب: قے آنے کی دوصورتیں ہیں: 1۔ جان بوجھ کر ارادی طورپرقے کی جائے ،ایسا کرنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ 2۔ خودبخود قے آجائے تواس سے روزہ نہیں ٹوٹتا کیونکہ اس سلسلہ میں ایک حدیث مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’جسے خودبخود قے آجائے اس پرقضا نہیں ہے اورجوشخص جان بوجھ کر قے کرے وہ بعد میں اس روزہ کی قضادے۔‘‘[ابوداؤد، الصوم : ۲۳۸۰] اس بنا پر ہمارے نزدیک اگرقے کاغلبہ ہوتواس سے روزہ نہیں ٹوٹے گا اگردانستہ قے کی جائے توروزہ جاتا رہے گا۔ اگر انسان محسوس کرے کہ اس کے معدے میں ہلچل برپا ہے اور اس میں جوکچھ ہے۔ وہ خارج ہوجائے گا تواس صورت میں اسے جذب کرنے کی کوشش نہ کی جائے اورنہ ہی اسے روکاجائے۔ معمول کے مطابق وہ کھڑا یابیٹھا رہے ۔اگراس نے ارادۃً قے کی ہے تواس سے روزہ ٹوٹ جائے گا اگرارادی فعل کے بغیرقے آگئی تواس سے روزہ نہیں ٹوٹے گا، البتہ سیدناامام بخاری رحمہ اللہ کایہ رجحان ہے کہ ہرقسم کی قے روزہ کے لئے نقصان دہ نہیں ہے، خواہ ارادی ہویاغیرارادی کیونکہ انہوں نے ایک عنوان قائم کرکے کچھ آثار پیش کئے ہیں جن میں سے ان کے موقف کی تائید ہوتی ہے، مثلاً: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ’’جب کوئی قے کرے