کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 221
حج وعمرہ سوال: میں دمام میں رہتاہوں۔ اپنی کمپنی کے ساتھ عمرہ کے لئے آیا لیکن عمر ہ کے بعد حجامت بنائے بغیر ہی جلدی میں ان کے ساتھ دمام واپس آگیا ہوں، اب میرے لئے کیاحکم ہے ،میراعمر ہ ہوا ہے یا نہیں؟ جواب: ہمارامعاملہ بھی عجیب ہے کہ اللہ تعالیٰ کے معاملات کوبس اپنے مفادات کے مطابق ہی طے کرتے ہیں موجودہ صورت مسئولہ میں بھی یہی کچھ ہو اہے۔ کمپنی کی گاڑی عمر ہ کے لئے مکہ آئی ،لیکن اپنی مصروفیات کی وجہ سے حجامت بنوانے کا ٹائم نہیں مل سکا، اگرحجامت کے لئے کسی حجام کوتلاش کیاجاتا اورپھرحجامت بنوائی جاتی توگاڑی کے نکل جانے کا اندیشہ تھا ۔اس موہوم خطرہ کے پیش نظر حجامت کئے بغیر ہی واپسی ہوگئی ۔اگرحجام کوتلاش کرکے حجامت بنوائی جاتی توکون سی قیامت آجاتی، زیادہ سے زیادہ یہی ہوتا کہ گاڑی نکل جاتی ،حالانکہ ایسا ناممکن تھا کیونکہ جوگاڑی اپنے اہل کاروں کو لے کرآتی ہے اس نے انہیں لے کرجانا ہے۔ اگربالفرض ایسا ہوجاتا تواپنا کرایہ دے کر واپس جانے میں کون سی دشواری حائل تھی۔دین اسلام میں بعض اوقات اگرکوئی مجبوری درپیش ہوتواس کا حل موجود ہے، مثلاً: عمرہ حدیبیہ کے موقع پر حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کے سر میں اتنی جوئیں پڑگئیں کہ وہ زمین پر گرنے لگیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان کی مشکل کودیکھا توفرمایا کہ ’’یہ جوئیں تمہارے لیے تکلیف کاباعث ہیں؟‘‘ عرض کیا ہاں، فرمایا ’’اپنے سر کومنڈوادو،پھرفدیہ کے طورپر تین روزے رکھو یاچھ مساکین کوکھانا کھلادویا ایک بکری ذبح کردو۔‘‘ [صحیح بخاری ، حدیث نمبر: ۱۸۱۴] حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قرآن کی آیت میرے متعلق ہی نازل ہوئی: ’’جو شخص تم میں سے مریض ہویا اس کے سر میں کچھ تکلیف ہو۔‘‘ (توسر منڈواسکتا ہے بشرطیکہ )روزوں سے یاصدقہ سے یاقربانی سے ان کافدیہ اد اکرے۔ [۲/البقرہ :۱۹۶] صورت مسئولہ میں بھی اگربحالت احرام واپسی ہوجاتی اوروہاں جاکرحجامت بنوائی جاتی، پھر احرام کھول دیاجاتاتواس کی گنجائش تھی ،لیکن حجامت کے بغیرہی احرام کھول دیا گیا ،اس لئے سائل کوچاہیے کہ وہ تین دن کے روزے رکھ لے یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلادے یاایک بکری بطور فدیہ ذبح کردے اور اس کاگوشت فقراء میں تقسیم کردے ۔اللہ تعالیٰ سے توبہ واستغفار بھی کرے اللہ تعالیٰ بخشنے والامہربان ہے۔ [واللہ اعلم ] سوال: ہم اپنے فوت شدہ بھائی کی طرف سے حج بدل کراناچاہتے ہیں اس سلسلہ میں ہم نے اپنے قابل اعتماد قریبی رشتہ دار سے رابطہ قائم کیاجومکہ مکرمہ میں رہتے ہیں اورانہیں پیشکش کی کہ اگر وہ ہمارے بھائی کی طرف سے حج بدل کریں تواس سلسلہ میں اٹھنے والے جملہ اخراجات ہم برداشت کریں گے۔انہوں نے جواب دیا کہ میں حج بدل کرنے کے لئے تیار ہوں لیکن کسی قسم کاخرچہ وغیرہ نہیں لوں گا کیااس صورت میں ہمارے بھائی کی طرف سے حج بدل ہوجائے گا یاپاکستان سے کسی کوحج کے لئے بھیجنا ضروری ہے؟ کتا ب وسنت کی روشنی میں وضاحت فرمائیں ۔