کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 218
صورت میں زکوٰۃ بھی اد اہوجائے گی، پھرواجب الادارقم کی واپسی کامطالبہ اوراس کی واپسی بھی صحیح اور جائز ہے، اگرنادہندہ انسان مستحق زکوٰۃ نہیں ہے تواس صورت میں نہ زکوٰۃ ادا ہوگی اورنہ ہی اس کی واپسی کودرست قراردیاجائے گا کیونکہ ایسا کرنے سے محض حیلہ گری کے ذریعے اپنی رقم نکالی گئی تصور ہوگی کیونکہ جسے زکوٰۃ دی گئی ہے وہ سرے سے زکوٰۃ کامستحق ہی نہیں تھا اگرچہ پہلی صورت میں بھی حیلہ کیاگیا ہے لیکن وہ جائز حیلہ ہے جس کا قرآن وحدیث سے ثبوت ملتا ہے۔ سیدنا یوسف علیہ السلام سے متعلق اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے ۔ ’’اس طرح ہم نے یوسف علیہ السلام کے لئے تدبیر کی ۔‘‘ [۱۲/یوسف :۷۶] اس میں یوسف علیہ السلام کااپنے بھائی کواپنے پاس رکھنے کے لئے دوسرے بھائیوں کے سامان میں پیالہ رکھنامراد ہے۔ اس آیت کریمہ سے مذکورہ حیلے کا جواز ملتا ہے، اس کے برعکس دوسری صورت میں جو حیلہ کیاگیا ہے، وہ ناجائز اورحرام ہے کیونکہ اس کے ذریعے ایک غیرمستحق کوحقدار ٹھہراکراسے زکوٰۃ دی گئی تاکہ اپنی سوختہ رقم برآمد کی جا سکے، لہٰذا جس حیلہ کے ذریعے کوئی حلال چیز حرام یاکوئی حرام چیز حلال ہوجائے وہ ناجائز ہوگا۔ مختصریہ ہے کہ رقم نادہندہ مفلوک الحال کوزکوٰۃ دے کراپنی رقم کامطالبہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور اس طرح زکوٰۃ کی ادائیگی بھی ہوجائے گی ۔ [واللہ اعلم ] سوال: ایک آدمی کو ہرماہ ایک ہزار روپیہ بچت ہوتی ہے اوروہ ہزار روپیہ محفوظ ہی رہتا ہے، یعنی ایک سال کی بچت بارہ ہزار روپیہ ہے اب اس سے زکوٰۃ ادا کرنے کاکیاطریقہ ہوگا کیاوہ سال پوراہونے پر ماہ بماہ زکوٰۃ دے گا کیونکہ بارہ ہزار روپیہ جمع ہونے کی بھی یہی صورت تھی یاکسی اورطریقہ سے زکوٰۃ کی ادائیگی ہوگی؟ جواب: سال کے اختتام پرجورقم بچت کی صورت میں موجود ہوتی ہے اگروہ نصاب کوپہنچ جائے تواس سے زکوٰۃ اداکرناضروری ہے زکوٰۃ ادا کرتے وقت یہ حساب نہیں لگا یاجائے گا کہ رقم کے کچھ حصہ پر ابھی سال نہیں گزرا،اس کی حیثیت دکان جیسی ہے جس میں مال کی آمد ورفت کاسلسلہ جاری رہتا ہے اورسال کے آخر میں دکان کے موجودہ مال کی ملکیت پرزکوٰۃ عائد ہوتی ہے ۔خواہ کچھ مال زکوٰۃ ادا کرنے سے ایک ماہ قبل اس میں شامل ہواہو،تنخواہ دار ملازم کوچاہیے کہ سال کے اختتام پراپنی پس انداز رقم سے اسی طریقہ کے مطابق زکوٰۃ اد اکرے، یعنی موجودرقم کاحساب کرکے زکوٰۃ نکالی جائے بشرطیکہ وہ نصاب کوپہنچ جائے ،اسے ماہ بماہ زکوٰۃ اد اکرنے کے تکلف کی ضرورت نہیں اس میں زکوٰۃ دینے اورلینے والوں کی آسانی ہے ۔ [واللہ اعلم ] سوال: ایک آدمی کے پاس ایک لاکھ روپے ہیں جس کی اس نے زکوٰۃ ادا کردی ہے اگلے سال پچاس ہزار مزید اس کے ساتھ مل جاتا ہے اب آیندہ پچاس ہزار روپے سے زکوٰۃ دیناہوگی یاایک لاکھ پچاس ہزارروپے سے کیونکہ ایک لاکھ روپے کی زکوٰۃ توادا کردی گئی ہے ۔ جواب: زکوٰۃ کے لئے ضابطہ حسب ذیل ہے: 1۔ پس انداز کیاہوامال نصاب کوپہنچ جائے ۔