کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 214
٭ قدرتی معدنیات ،پٹرول ،تیل اورگیس کی پیداوار کاپانچواں حصہ ۔ ٭ مختلف اوقات میں ضرورت رعایاپرلگایا جانے والا ٹیکس۔ ٭ دوسرے ممالک سے سامان تجارت درآمد یابرآمد کرنے پرعائد کردہ کسٹم ۔ ٭ دوران ڈیوٹی سرکاری کارندوں کوعوام سے ملنے والے تحائف وغیرہ اسے دیانت دارحاکم وقت اپنی صوابدید پرمسلمانوں کی عام ضروریات پرخرچ کرنے کامجازہوتا ہے، اس کی تفاصیل کتب فقہ میں دیکھی جاسکتی ہیں ۔اس مختصر تمہیدی گزارشات کے بعد ہم سوال میں پیش کردہ شقوں کاجائزہ لیتے ہیں ۔ہمارے ہاں قائم شدہ غیر معیاری اسلامی حکومتوں کی غلط پالیسیوں اورغیر معتدل کارکردگی کی بنا پربیت المال کاقیام جماعتی سطح پر ضروری ہے۔ لیکن یہ بیت المال جہادی تنظیموں جیسا نہیں ہوناچاہیے جس میں غریبوں ،یتیموں، بیواؤں اورناداروں کے مال پرشب خون مارکراسے صوابد یدی فنڈکے طورپر استعمال کیاجائے بلکہ حسب تفصیل بالا ہرمد کواس کے بیان کردہ مصارف میں ہی استعمال کیا جائے۔ اسی طرح انفرادی طورپربیت المال چلانے والوں پرکڑی نظر رکھتے ہوئے ان کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے،پھرصوبائی ،ضلعی اورتحصیلی سطح پراس کی شاخیں قائم ہوں ۔شہروں اوردیہاتوں میں بھی ذیلی یونٹ قائم کیے جائیں، البتہ ہر مسجد کاالگ بیت المال ہو، یہ غیراسلامی فکر ہے۔ اس سے اجتناب کرناچاہیے کیونکہ ایساکرنے سے اجتماعی نظم کمزور ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں چونکہ اسلامی قوانین کافقدان ہے، اس لئے ہم اپنے بیت المال میں صرف زکوٰۃ اورعشروغیرہ جمع کرسکتے ہیں۔ چرمہائے قربانی اورفطرانہ وغیرہ کوجمع توکیاجاسکتا ہے لیکن اس سے حاصل ہونے والی رقوم کو فورًا محتاجوں اورضرورت مندوں میں خرچ کردیا جائے ،زکوٰۃ اورعشر کے وہی آٹھ مصارف ہیں جنہیں قرآن کریم نے بیان کیا ہے اسے مقامی مسجد میں یامقامی مدرسہ یامقامی لائبریری پرصرف نہیں کرناچاہیے۔ اس کے لئے الگ فنڈ قائم کیاجائے جس میں مخیر حضرات کے عطیات، عام صدقہ وخیرات وغیرہ جمع کئے جائیں۔ ہاں، اگرکوئی ایسا مدرسہ ہے جہاں مسافرغریب طلبا زیرتعلیم ہیں توان کی جملہ ضروریا ت بیت المال سے پوری کی جاسکتی ہیں اگرطلباء کی ضرورت کے پیش نظر مسجد بنانا ہوتو اس قسم کی مسجد پرزکوٰۃ وعشرکی رقم کولگایا جاسکتا ہے، اسی طرح اگرکسی گاؤں کے رہائشی زکوٰۃ کے حقدارہوں توایسے لوگوں کے لئے زکوٰۃ کی مدسے مسجد بھی بنوائی جاسکتی ہے، البتہ عام مساجد کے اخراجات بیت المال سے ادانہیں کئے جاسکتے ہیں اورنہ ہی اسے مقامی مدرسہ یامقامی لائبریری پرصرف کیاجاسکتا ہے، اپنے طورپر بیت المال کااہتمام کرکے اس میں زکوٰۃ ،عشر چرمہائے قربانی اورفطرانہ کی رقم جمع کرنااورپھراسے مسجد کی ضروریات پرصرف کرنا یااس سے امام مسجد کی تنخواہ یا مقامی بچوں کی تعلیم کے لئے مدرس کی تنخواہ ادا کرناایک چوردروازہ ہے، جسے بند ہوناچاہیے ۔ [واللہ اعلم بالصواب] سوال: پچھلے دنوں جب پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں قیامت خیز زلزلہ آیا توہر درددل رکھنے والے پاکستانی اور غیرپاکستانی نے اس کی ٹیسیں محسوس کیں ،ملک بھر سے اہل ثروت حضرات نے فون پررابطہ کیا کہ کیا ماہ رمضان کے مبارک مہینہ میں اپنے فاقہ زدہ متاثرین کامال زکوٰۃ کے ذریعے تعاون کیاجاسکتا ہے؟ جواب: بلاشہ اللہ کی طرف سے ایسی نشانیاں ہمارے حکمرانوں اورعوام کی عبرت کے لئے ہوتی ہیں، تا کہ ہم اپنی روش اور طرززندگی پرنظرثانی کریں۔ ایسے حالات میں کئی ایک پہلوؤں سے ہمارا امتحان ہوتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ توبہ واستغفار کے ساتھ