کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 212
جائز خیال کرتا ہے۔ [صحیح ابن خزیمہ، کتاب الزکوٰۃ ] البتہ کسی عذر کی بنا پرقیمت اد اکی جاسکتی ہے، مثلاً: ایک شخص روزانہ بازار سے آٹا خریدکر استعمال کرتا ہے تواس کے لئے ضروری نہیں کہ وہ پہلے بازار سے غلہ خریدے اورپھراس سے صدقۂ فطراداکرے بلکہ وہ بازار کے نرخ کے مطابق اس کی قیمت ادا کرسکتا ہے۔ [مرعاۃ المفاتیح، ص: ۱۰۰،ج ۴] سوال: موجودہ حالات میں بیت المال کی شرعی حیثیت کیا ہے کیاکسی گاؤں یاشہر میں بیت المال قائم کیاجاسکتا ہے۔ بیت المال میں کون سی چیز یں جمع ہوسکتی ہیں، نیز اس کے مصارف کون کون سے ہیں کیااس سے مقامی مدرسہ اورمسجد کے اخراجات پورے کئے جاسکتے ہیں؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب دیں ۔ جواب: اسلامی حکومت کافرض ہے کہ وہ بیت المال کاقیام عمل میں لائے ،کیااس کے موارداورمصارف اجتماعیت کاتقاضا کرتے ہیں۔ قرون اولیٰ میں اسلامی حکومتیں اس پرعمل پیراتھیں اگرمسلمان حکومتیں اس فریضہ کوسرانجام نہ دیں توکم ازکم جماعتی سطح پراس کااہتمام ہوناچاہیے ،لیکن انفرادی طورپر اسے قائم کر کے، پھربرائے نام جماعت سازی کرناشرعاً درست نہیں ہے کیونکہ یہ تومسلمانوں کامال باطل ذرائع سے جمع کرنا اورصرف کرنا ہے۔ اس سلسلہ میں دوسری بات یہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ بیت المال میں مال جمع ہونے سے اس کی حیثیت نہیں بدل جاتی کہ اسے اپنی مرضی سے استعمال کیا جائے، اس سلسلہ میں جوروایات پیش کی جاتی ہیں کہ لوگ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کوصد قہ کاگوشت دے دیتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے بطور ہدیہ قبول کرلیتے تھے۔ یہ روایت صحیح ہے لیکن اس کااستعمال برمحل نہیں ہے کیونکہ روایات کے مطابق صدقہ اپنے محل پرپہنچ جاتا تھا پھرجسے صدقہ دیا گیا ہووہ اپنی مرضی سے استعمال کرتا تھا ۔ لیکن بیت المال میںجو مال جمع ہوتا ہے وہ امانت کے طورپرہوتا ہے تاکہ اس کانگران اسے صحیح جگہ پر صرف کرے،وہ اپنی مرضی سے ایسی جگہ خرچ کرنے کامجاز نہیں جواس کامصرف نہ ہو،ہمارے ہاں عام طورپر ’’اپنامال اپنوں پر‘‘ خرچ کرنے کے لئے مندرجہ ذیل حضرات بیت المال قائم کرنے کااہتمام کرتے ہیں : ٭ غیر معیاری اسلامی حکومتیں بیت المال قائم کرلیتی ہیں تاکہ بینکوں کے ذریعے لوگوں کے جمع شدہ سرمایہ سے جبرًا اس سے زکوٰۃ کاٹی جائے، پھر اسے غلط مقاصد کی برآری کے لئے اپنی مرضی سے استعمال کیاجائے۔اس حکومتی بیت المال میں دیگر ناجائز ذرائع کامال جمع ہوتا ہے۔ مدارس کوچاہیے کہ وہ اس طرح کے بیت المال سے کسی قسم کاحکومتی تعاون قبول نہ کریں ۔ ٭ بڑی فیکٹریوں کے مالکان یاوسیع کاروبار رکھنے والے مذہبی حضرات اپنے ہاں ایک بیت المال کااہتمام کرتے ہیں جس میں زکوٰۃ وغیرہ کوجمع کردیا جاتا ہے پھرفیکٹری میں قائم کردہ مسجد یامدرسہ کے اخراجات اسی مدسے پورے کئے جاتے ہیں نیز فیکٹریوں میں کام کرنے والے مزدوروں کاتعاون بھی اس سے کیاجاتا ہے۔ ٭ دینی ذہن رکھنے والے کسی گاؤں یاشہر کے رہائشی ایک ’’اجتماعی ‘‘بیت المال بنالیتے ہیں اس میں زکوٰۃ عشر، فطرانہ اورچرمہائے قربانی سے آمدہ رقم جمع کی جاتی ہے، پھراس سے مسجد کے امام وخطیب کی تنخواہ یالائبریری وغیرہ کے اخراجات کو پورا کیا جاتا ہے۔ ٭ بعض دوراندیش حضرات اپنے طورپرایک انفرادی سا بیت المال بنالیتے ہیں، پھرلوگوں سے چندہ مانگ کراسے بھرا جاتا ہے