کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 211
میں کسی دوسرے ملک میں رہنے والے اس کی طرف سے صدقہ فطر ادا کرسکتے ہیں تاکہ وہاں کے مساکین کو دیا جاسکے۔ اسی طرح اگر کوئی دائمی بیمار یا بوڑھا اپنے روزوں کا فدیہ دینا چاہتا ہو تو اسے بھی چاہیے کہ اپنے ملک کے حساب سے اس کی ادائیگی کرے، مثلاً: پاکستان میں تقریباً1500/- روپے میں ایک ماہ تک دو ٹائم کا کھانا کھایا جاسکتا ہے، جبکہ کویت میں رہنے والے حضرات کم از کم تقریباً ایک دینار روزانہ کے حساب سے فدیہ ادا کریں گے۔ اسی طرح انہیں پاکستانی کرنسی میں تقریباً چھ ہزار روپے ادا کرنا ہوں گے۔ بہرحال دوسرے ممالک کے رہنے والے اس کی طرف سے صدقۂ فطر ادا کرسکتے ہیں اور انہیں فدیہ بھی دیا جاسکتا ہے۔لیکن اخراجات کے لئے اپنے اس ملک کی کرنسی کا اعتبار ہو گا جہاں وہ رہائش رکھے ہوئے ہے۔ [واللہ اعلم] سوال: صدقۂ فطر کس چیز سے ادا کیاجائے ،کیا جنس کے بجائے اس کی قیمت دیناجائز ہے یا نہیں، نیزچاول وغیرہ بطور فطرانہ دیے جاسکتے ہیں؟ جواب: احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جن اجناس کوانسان بطورغذااستعمال کرتا ہے ان سے صدقۂ فطر ادا کیا جا سکتا ہے اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدمبارک میں عموماً جو، کھجور، منقیٰ اورپنیر وغیرہ بطورخوراک استعمال ہوتے تھے، اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کوانہی اجناس خوردنی سے صدقہ ادا کرنے کا حکم دیا۔ چنانچہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں اپنی خوراک سے ایک صاع بطورفطرانہ ادا کرتے تھے اوران دنوں ہماری خوراک جو،کھجور، منقیٰ اور پنیر ہوا کرتی تھی۔ [صحیح بخاری ،الزکوٰۃ :۱۵۱۰] اس حدیث کے پیش نظر صدقۂ فطر ہراس چیز سے ادا کیاجاسکتا ہے جوسال کے پیشتر حصہ میں بطور خوراک استعمال ہوتی ہو،اس روایت میں گندم کاذکر نہیں ہے، حالانکہ صدقۂ فطر میں گندم دینا بھی جائز ہے، البتہ گندم کاذکر ایک دوسری روایت میں آیا ہے۔چنانچہ حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما فرماتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں گندم میں سے دو مد، یعنی نصف صاع بطور فطرانہ اد اکرتے تھے۔ [مسند امام احمد ،ص: ۳۵۰،ج ۶] عرب میں دوسری اشیاء خوردنی کے مقابلہ میں گندم چونکہ مہنگی ہوتی تھی، اس لئے نصف صاع کا اعتبارکیاگیا ہے، بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس کے باوجود گندم سے بھی ایک صاع دینے کے قائل اورفاعل تھے۔ہمارے ہاں گندم عام دستیاب ہے اس لئے گندم سے ایک صاع ہی ادا کرناچاہیے ۔اسی طرح چاول بھی بطورصدقہ فطر اد اکئے جاسکتے ہیں، بہرحال حالات وظروف کومدنظر رکھتے ہوئے فطرانہ ادا کیا جائے اوراس میں مساکین کی پسندیدگی کابھی خیال رکھا جائے۔ ہمارے ہاں عام طور پرمساکین کی ضرورت کے پیش نظر صدقۂ فطرمیں نقدی دی جاتی ہے، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اورصحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے قیمت ادا کرناثابت نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فطرانہ کامقصد ’’مساکین کی خوراک ٹھہرایا‘‘ ہے۔ [سنن ابن ماجہ ،الزکوٰۃ:۱۸۳۷] اس کاتقاضا بھی یہی ہے کہ فطرانہ میں اشیاء خوردنی ہی دی جائیں محدثین کرام میں سے کسی نے بھی اس بات کی صراحت نہیں کی ہے کہ فطرانہ میں قیمت دیناجائز ہے بلکہ محدث ابن خزیمہ نے ایک عنوان بایں الفاظ قائم کیا ہے اس باب میں صدقۂ فطر کے طورپرہرقسم کی اشیاء خوردنی ادا کرنے کابیان ہے، نیز اس شخص کے خلاف دلیل ہے جوصدقۂ فطرمیں پیسے اورنقدی اد اکرنے کو