کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 205
رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’جس نے ہمارے دین میں کسی نئی چیز کورواج دیا وہ بھی مردود ہے۔‘‘ [صحیح بخاری، الصلح: ۲۶۹۷] ان حقائق کے پیش نظردعائے استفتاح میں مذکورہ اضافہ انتہائی محل نظر ہے۔ [واﷲ اعلم ] سوال: عورت معقول انتظام اورپردے کابندوبست ہونے کی صورت میں نمازجنازہ میں شرکت کرسکتی ہے یا نہیں؟ کتاب وسنت کے مطابق جواب دیا جائے۔ جواب: خواتین نمازجنارہ میں شرکت کرسکتی ہیں لیکن مردوں کی طرح جنازے کے پیچھے چل کرجانا ان کے لئے جائز نہیں ہے۔روایات میں ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے مسجد میں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے جنازہ میں شرکت کی تھی۔ [صحیح مسلم ، الجنائز :۹۷۳] حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہمیں، یعنی عورتوں کوجنازے کے ساتھ چلنے سے منع کیاگیاہے، لیکن اس سلسلہ میں ہم پر سختی نہیں کی جاتی تھی یاتاکید اً منع نہیں کیاجاتاتھا۔ [صحیح بخاری ،الجنائز:۱۲۷۸] اس روایت اورسیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے عمل کے پیش نظر خواتین نمازجنازہ میں شرکت کرسکتی ہیں ،لیکن انہیں دوردراز سے باقاعدہ اہتمام کے ساتھ جنازوں میں شرکت کے لئے لانا،اس شرکت کے لئے تحریک چلانااوربسوں کااہتمام کرناشرعاًمحل نظر ہے۔زیادہ سے زیادہ مسجد وغیرہ میں اگر جنازے کااہتمام ہوتومسجد کے آس پاس کی خواتین اس جنازہ میں شریک ہوسکتی ہیں۔اس کے لئے ’’شدرحال ‘‘کی قطعاًکوئی گنجائش نہیں ہے۔ ایسا کرنا شرعاً ثابت نہیں ہے ۔ [واللہ اعلم]