کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 204
سے محفوظ رکھے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق دریافت کیا توآپ نے فرمایا: ’’عذاب قبربرحق ہے‘‘۔ [صحیح بخاری ،الجنائز :۱۳۷۲] اس کے علاوہ امام بخاری رحمہ اللہ نے متعدد احادیث کاحوالہ دیا ہے جن میں عذاب قبرکی صراحت ہے لیکن سوال میں جن لوگوں کاحوالہ دیا گیا ہے وہ احادیث کے منکر ہیں کیونکہ یہ ان کے موقف کے خلاف ہیں اس لیے ایسے لوگوں کیساتھ جزوی مسائل میں الجھنے کی بجائے بنیادی مسئلہ پربات کرنی چاہیے کہ حدیث کی کیاحیثیت ہے؟ کیا اس کی بنیاد وحی پرمبنی ہے؟ کیاان کے بغیر تمام شریعت کوصرف قرآن پاک سے ثابت کیاجاسکتاہے چونکہ سوال عذاب قبر کے متعلق ہے، وہ بھی ان لوگوں کے حوالہ سے جوصحیح احادیث کونہیں مانتے، اس لئے ہم اسے قرآن سے ثابت کرتے ہیں، اختصار کے پیش نظر صرف ایک آیت پیش خدمت ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے تواس سلسلہ میں متعد د آیات کاحوالہ دیا ہے، ارشادباری تعالیٰ ہے : ’’اور آل فرعون خود ہی برے عذاب میں گھر گئے وہ صبح وشام آگ پرپیش کیے جاتے ہیں۔ اورجس دن قیامت قائم ہوگی تو(حکم )ہوگا کہ آل فرعون کوسخت ترین عذاب میں داخل کر دو۔‘‘ [۴۰/المؤمن :۴۶] اس آیت میں صراحت ہے کہ آل فرعون کے غرق ہونے کے دن سے لے کر قیامت تک ان کی ارواح کوہرروزصبح وشام اس دوزخ پرلاکھڑا کیاجاتا ہے، جس میں وہ قیامت کے دن اپنے جسموں سمیت داخل ہونے والے ہیں۔ موت سے قیامت تک کا عرصہ ’’برزخ‘‘ کہلاتا ہے اور یہ قبرکے جملہ مراحل ہیں۔ اس آیت کریمہ میں عذاب برزخ ،دوسرے الفاظ میں ’’عذاب قبر‘‘ کی صراحت ہے۔ جس سے منکر حدیث کوبھی انکار نہیں ،عذاب قبر عقلی لحاظ سے بھی غیرممکن نہیں ،ہمارے ہاں ملزم کوپکڑکرحوالات میں رکھاجاتا ہے وہاں وہ مصائب وآلام سے دوچار ہوتا ہے، اس پرمقدمہ چلایا جاتا ہے۔ فیصلے کے دن کے بعداسے حوالات سے نکال کرجیل کی کوٹھری میں بند کر دیا جاتا ہے، جرم ثابت ہونے سے پہلے اسے جس قیدوبند میں رکھاجاتا ہے اوروہاں اسے تکلیف کاسامنا کرناپڑتا ہے اسے کس کھاتہ میں ڈالا جائے گا؟ عذاب قبر کابھی یہی معاملہ ہے کہ اسے ایک ملزم کی حیثیت سے قبر میں رکھاجاتا ہے اوراسے تکلیف کاسامنا کرناپڑتا ہے، پھرقیامت کے دن اس پرفرد جرم عائد کی جائے گی اورمتعدد شہادتوں سے اس کے جرم کوثابت کر کے، پھر مجرم کی حیثیت سے دوزخ کے حوالے کیاجائے گا مذکورہ آیت کریمہ میں تمام مراحل کو آسانی سے دیکھاجاسکتا ہے ۔ [واللہ اعلم ] سوال: نمازجنازہ پڑھتے وقت بعض لو گ دعائے استفتاح میں ’’وجل ثناؤک‘‘ کااضافہ کرتے ہیں، کیایہ صحیح حدیث سے ثابت ہے۔؟ جواب: ہم نے کسی سابقہ فتویٰ میں لکھا تھا کہ نماز جنازہ میں دعائے استفتا ح پڑھنا محل نظر ہے کیونکہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کاپڑھنا ثابت نہیں ،پھر اس دعا میں ’’وجل ثناؤک ‘‘کاپیوند لگا کر نماز جنازہ میں پڑھنا مزید خدشات وخطرات کاباعث ہے۔ ہمارے علم کے مطابق یہ اضافہ حدیث کی کسی معتبر یاغیر معتبر کتاب میں منقول نہیں ہے، کتب فقہ میں مثلاً: ہدایہ اوردر مختار وغیرہ میں کسی قسم کے حوالہ کے بغیر ان الفاظ کوذکر کیاگیا ہے، حدیث میں ہے کہ ’’جس نے ہمارے امریاعمل کے خلاف کوئی کا م کیا وہ مردود ہے۔‘‘ [صحیح بخاری، الاعتصام، باب نمبر: ۲۰تعلیقاً]