کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 201
ہماری راہنمائی فرمائیں۔ واضح رہے کہ اس سلسلہ میں عورتوں کاموقف یہ ہے کہ جوعورت تمام زندگی پردہ کرتی ہے اسے صرف تین کپڑوں میں کفن دینااس کی توہین ہے ۔اس لئے ان کاکہنا ہے کہ عورت کے سر پر اضافی سکارف یا دوپٹہ اورایک اضافی تہبند ضروری ہے جوتین کپڑوں سے الگ ہو؟ جواب: عام طور پر عورت کے کفن سے متعلق مندرجہ ذیل حدیث پیش کی جاتی ہے ۔ حضرت لیلیٰ بنت نائف رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں ان خواتین میں شامل تھی جنہوں نے حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا کی وفات کے وقت انہیں غسل دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے ہمیں تہبند دیا، پھر کرتہ اس کے بعد اوڑھنی، پھرایک بڑی چادر ، پھراسے ایک دوسری چادر میں لپیٹ دیا گیا ،حضرت لیلیٰ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی لخت جگر کاکفن لے کر دروازے کے پاس بیٹھے تھے اورہمیں ایک، ایک کپڑا دیتے جاتے تھے۔ [مسند امام احمد، ص:۳۸۰، ج ۶] اس روایت کوامام ابوداؤد نے بھی ’’کفن المرأۃ‘‘ کے عنوان سے اپنی سنن میں بیان کیا ہے اس روایت کے پیش نظرہمارے ہاں عورت کوپانچ کپڑوں میں کفن دینے کارواج ہے جس کی تفصیل اس طرح بیان کی جاتی ہے: 1۔ تہبند جوناف سے ٹخنوں تک ہوتا ہے ۔ 2۔ سربند یااوڑھنی جوسر اوراس کے بال باندھنے کے لئے ہوتی ہے ۔ 3۔ کرتہ یاکفن جوپہلوؤں کی طرف سے کھلا ہوااور نیچے اوپر گردن سے ہوتا ہوا گھٹنوں تک عام طورپریہ شکل ہوتی ہے ۔ 4۔ دوبڑی چادریں جس میں سارا جسم لپیٹ دیاجاتا ہے ۔ اس کے برعکس مردحضرات کے لئے صرف تین چادر یں ہوتی ہیں کیونکہ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوتین سفید لمبی چادروں میں کفن دیا گیا۔ [صحیح بخاری ،الجنائز:۱۲۶۶] لیکن مرد اورعورت کے کفن میں فرق کرنے کے لئے جوروایت پیش کی جاتی ہے، وہ انتہائی ضعیف ہے کیونکہ اس میں نوح بن حکیم نامی راوی مجہول ہے جس کی ثقاہت وعدالت ثابت نہیں ہوسکی ،اس کے علاوہ زیلعی نے ایک اورسبب ضعف بیان کیا ہے اس کی سند میں ایک داؤد نامی راوی ہے جسے ام حبیبہ بنت ابی سفیان نے جنا تھا، وہ لیلیٰ بنت نائف رضی اللہ عنہا سے بیان کرتا ہے۔ اس داؤد کے متعلق پتہ نہیں چل سکا کہ کون ہے۔ کتب رجال میں ایک داؤد بن ابی عاصم بن عروہ بن مسعود ثقفی ہیں جو عثمان بن ابی العاص ،ابن عمر ، سعید بن مسیب سے بیان کرتا ہے اور اس سے ابن حریج، یعقوب بن عطا اورقیس بن سعد بیان کرتے ہیں امام ابوزرعہ اس کے متعلق فرماتے ہیں کہ یہ قابل اعتماد اورثقہ ہیں لیکن سند میں موجود داؤد نامی یہ نہیں ہے کیونکہ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا جب حبشہ سے واپس آئی ہیں توان کے ہمراہ صرف ان کی ایک بیٹی تھی ۔جس کانام حبیبہ ہے جس کی بنا پر ام المؤمنین رضی اللہ عنہا کوام حبیبہ کہاجاتا ہے۔ اگربیٹی کاخاوند ابوعاصم بن عروہ ہوتو کہاجاسکتا ہے کہ سند میں مذکورہ داؤد نامی راوی داؤد بن ابی عاصم عروہ بن مسعود ہے لیکن یہ بات تاریخی اعتبار سے ثابت نہیں ہے کیونکہ حبیبہ کاخاوند ابوعاصم نہیں بلکہ داؤد بن عروہ بن مسعود ہے۔ [طبقات ابن سعد، ص:۶۸، ج ۸] اورسند میں مذکورہ داؤدنامی راوی داؤد بن عروہ بن مسعود نہیں ہوسکتا ہے کیونکہ وہ حضرت ام حبیبہ کا خاوند ہے اس کابیٹا نہیں، جبکہ سند میں ہے داؤد حضرت ام حبیبہ کابیٹا ہے اس بنا پر بھی مذکورہ روایت کمزور اورناقابل اعتبار ہے۔ [نصب الرایہ، ص:۲۵۸، ج ۲]