کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 200
2۔ جنازے کے ہمراہ جانے والے کھڑے رہیں ۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے دونوں قسم کے لیے احادیث پیش کی ہیں، چنانچہ عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب تم جنازہ دیکھو توکھڑے ہو جاؤ حتی کہ وہ تمہیں پیچھے چھوڑ جائے۔‘‘ [صحیح بخاری ،الجنائز :۱۳۰۷] لیکن جنازہ دیکھ کر کھڑے ہونے کااہتمام ابتدائی دور میں تھا، پھر اس قیام کوترک کردیا گیا، جیسا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جنازے کے لیے کھڑے ہونے کاحکم دیا تھا، پھرآپ اس کے بعد بیٹھنے لگے اورہمیں بھی بیٹھے رہنے کا حکم دیا ۔ [مسند امام احمد، ص:۸۲ج، ۱] اس حدیث کی وجہ سے اگر کوئی جنازہ دیکھ کر بیٹھارہے توجائز ہے قیام ضروری نہیں ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے دوسری اقسام کے قیام کے لیے بایں الفاظ عنوان کیا ہے : ’’جوشخص جنازے کے ہمراہ ہواسے چاہیے کہ کندھوں سے نیچے رکھے جانے سے قبل نہ بیٹھے ،اگر بیٹھ جائے تواسے کھڑے ہونے کے لئے کہاجائے۔‘‘اس سلسلہ میں انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث پیش کی ہے کہ رسول ا للہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب تم جنازہ دیکھو توکھڑے ہوجاؤاورجوشخص جنازے کے ہمراہ ہووہ نہ بیٹھے حتی کہ اسے رکھ دیا جائے۔‘‘ [صحیح بخاری ، حدیث نمبر:۱۳۱۰] اگرچہ بعض روایات میں لحدمیں رکھے جانے کاحکم ہے لیکن امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے زمین پررکھے جانے کی روایت کوترجیح دی ہے۔ دوسری روایات سے بھی اس موقف کی تائید ہوتی ہے، چنانچہ حضرت ابو سعید خدری اورحضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ہم نے کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کونہیں دیکھا کہ آپ کسی جنازہ میں شریک ہوں اور اسے رکھے جانے سے قبل بیٹھ گئے ہوں۔ [نسائی، حدیث نمبر: ۱۹۱۸] لیکن جنازے کے لئے قیام کی یہ دوسری قسم بھی ضروری نہیں کیونکہ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنازوں کے ساتھ کھڑے رہتے جب تک اسے زمین پرنہ رکھ دیاجاتا اورآپ کے ساتھ لوگ بھی کھڑے رہتے اور پھراس کے بعد آپ نے بیٹھنا شروع کردیا اورلوگوں کوبھی بیٹھنے کاحکم دیا۔ [بیہقی، ص:۲۷،ج ۴] اس موقف کی وضاحت ایک دوسری حدیث سے بھی ہوتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت کھڑے رہتے جب تک جنازے کولحد میں نہ رکھ دیاجاتا پھر ایک یہودی عالم کاگزر ہواتواس نے کہا کہ اس طرح توہم کرتے ہیں تب آپ نے بیٹھناشروع کر دیا اور فرمایا: ’’تم بھی بیٹھا کرو اوران کی مخالفت کرو۔‘‘ [ابوداؤد، الجنائز: ۳۱۷۶] علامہ البانی رحمہ اللہ نے بھی اسی موقف کواختیار کیاہے۔ [احکام الجنائز، ص: ۷۷،۷۸] اس لئے ہمارے نزدیک جنازے کودیکھ کر کھڑے ہوناضروری نہیں ہے۔ [واللہ اعلم ] سوال: کفن دینے کے لئے کتنے کپڑے ہونے چاہییں۔ ہمارے ہاں عام طورپانچ کپڑوں میں کفن دینے کا رواج ہے جبکہ نئی تحقیق کے مطابق مرداورعورت کے کفن میں کوئی فرق نہیں۔ اس سلسلہ میں